اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ایندھن کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے ’’پٹرولیم اسمارٹ لاک ڈاؤن‘‘ کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت دفاتر کے اوقات اور ملازمین کے کام کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی تجاویز زیر بحث ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پیٹرول کی بچت اور حکومتی سفری اخراجات کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایندھن کی طلب کم کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
مجوزہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت سرکاری اور نجی اداروں میں ہفتے کے چار دن کام جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیل رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ اس شیڈول سے دفاتر آنے جانے والی گاڑیوں کی تعداد کم ہوگی اور یوں ایندھن کی کھپت میں بھی کمی لائی جاسکے گی۔
ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی حاضری کے لیے روٹیشن سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ اس فارمولے کے تحت بعض ملازمین کو دفاتر میں جبکہ دیگر عملے کو گھر سے فرائض انجام دینے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
اس کے علاوہ سرکاری سطح پر استعمال ہونے والی گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ حکام نے ایندھن کی بچت کے لیے تقریباً 50 فیصد سرکاری گاڑیوں کو عارضی طور پر استعمال سے باہر رکھنے کا آپشن بھی پیش کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے زیر غور ان اقدامات کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو محدود کرنا، قومی خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا اور ملک میں ایندھن کی مجموعی کھپت میں کمی لانا ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ تجاویز ابھی غور و خوض کے مرحلے میں ہیں اور ان پر حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی مزید مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔



















































