بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

تیل کی قیمت 150 ڈالربیرل تک جانے کا خدشہ

datetime 16  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ دنیا کے بڑے مالیاتی اداروں گولڈمین سیکس اور کیپٹل اکنامکس نے تیل کی قیمتوں کے حوالے سے نئے اندازے جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں تیل کی سپلائی کا بحران جلد حل نہ ہوا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آئندہ چند ماہ کے دوران خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرسکتی ہے، جبکہ برینٹ کروڈ کے 130 ڈالر تک پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ توانائی کے شعبے سے متعلق عالمی تحقیقی ادارے فیکٹس گلوبل انرجی (FGE) کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں طویل عرصے تک رکاوٹ برقرار رہی تو برینٹ کی قیمت 120 سے 150 ڈالر فی بیرل کے درمیان جاسکتی ہے۔

دوسری جانب عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے 2026 کے لیے برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 120 ڈالر فی بیرل رہنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں پہلے ہی 110 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر جاچکی ہیں، جبکہ حالیہ کاروبار کے دوران قیمت تقریباً 108 ڈالر فی بیرل رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل جنگ اور سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہنے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔ بعض عالمی کارپوریشنز کی جانب سے خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکانات بھی زیر بحث آئے ہیں، تاہم یہ ایک انتہائی بلند منظرنامہ تصور کیا جارہا ہے۔

عالمی توانائی سپلائی کو بڑا خطرہ

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں نمایاں کمی نے عالمی توانائی مارکیٹ کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ جنگ سے پہلے کے معمول کے مقابلے میں اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں طویل عرصے تک بحری آمدورفت متاثر ہونے کی صورت میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی ترسیل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایشیا، یورپ اور دیگر بڑی مارکیٹوں کو متبادل ذرائع سے توانائی حاصل کرنا پڑے گی۔

علاقائی کشیدگی میں اضافے کے ساتھ برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 103 ڈالر سے اوپر چلا گیا۔ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں اور اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی ترسیل متاثر ہونے سے مشرق وسطیٰ سے تیل کی مزید کمی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں اضافہ صرف پیٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بجلی، ٹرانسپورٹ، صنعت اور خوراک سمیت معیشت کے مختلف شعبوں تک پہنچتے ہیں۔ تیل کی قیمت بڑھنے سے درآمدی ممالک کا تجارتی خسارہ اور مالی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

چین سمیت متعدد بڑے توانائی صارف ممالک موجودہ صورتحال میں اپنے تیل کے ذخائر استعمال کررہے ہیں تاکہ عالمی سپلائی میں ممکنہ کمی کے اثرات کو کسی حد تک محدود رکھا جاسکے۔

پاکستان کے لیے بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں ملک کا درآمدی بل بڑھنے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ آنے اور مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ مسلسل بلند عالمی قیمتیں روپے اور ملکی معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔

قیمت 120 ڈالر یا اس سے زیادہ ہونے کا امکان

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی، سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا یا عالمی تیل سپلائی میں رکاوٹ بڑھ گئی تو خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل یا اس سے بھی بلند سطح پر پہنچ سکتی ہے۔

تاہم اگر فریقین کے درمیان جنگ بندی ہوجاتی ہے، سفارتی مذاکرات آگے بڑھتے ہیں یا خطے میں کشیدگی کم ہونے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آجاتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر موجود دباؤ میں کمی آسکتی ہے۔

موجودہ صورتحال نے واضح کردیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی عسکری کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی توانائی، تجارت، مہنگائی اور معاشی استحکام بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ عالمی منڈیوں کی توجہ اس وقت آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، کیونکہ اس اہم بحری راستے میں مزید رکاوٹ عالمی سطح پر توانائی کے ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…