بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

تاریخ میں پہلی بار مکہ مکرمہ میں فضائی حملے کے خطرے کا الرٹ آگیا

datetime 16  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے بعد مکہ مکرمہ میں پہلی مرتبہ ممکنہ فضائی حملے کے خطرے سے متعلق الرٹ جاری کردیا گیا۔ سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری کیے گئے انتباہ میں مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت مختلف علاقوں کے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔

سعودی سول ڈیفنس نے شہریوں سے کہا کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد مکہ مکرمہ میں خطرہ ختم ہونے کا اعلان کردیا گیا۔

حکام کی جانب سے بعد میں جاری بیان میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر برقرار رکھنے، غیر ضروری اجتماعات سے دور رہنے اور ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق مکہ مکرمہ میں اس نوعیت کا فضائی خطرے کا انتباہ پہلی بار سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل سعودی سول ڈیفنس ملک کے دیگر 6 علاقوں میں بھی مختصر مدت کے لیے فضائی خطرے کے الرٹس جاری کرچکا ہے۔

حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے

یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق ایک حالیہ حملے کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے۔

جدہ، مکہ مکرمہ اور طائف میں الرٹس جاری ہونے کے بعد سعودی حکام نے حوثیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا عندیہ بھی دیا ہے۔ سعودی قیادت کا کہنا ہے کہ مملکت کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

حوثیوں کی جانب سے جنوبی سعودی عرب میں واقع کنگ خالد ایئربیس سمیت متعدد اہداف پر درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 7 گھروں اور 2 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ ایک مقامی شہری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ خمیس مشیط میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ بعض مقامات پر کافی دیر تک آگ کے شعلے بھی دیکھے گئے۔

سعودی حکومت نے حوثیوں کے حملوں کو ملک کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب حوثی رہنما حازم الاسد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک سعودی عرب یمن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، حوثیوں کی جانب سے ردعمل بھی جاری رہے گا اور حملوں میں مزید شدت آسکتی ہے۔

حوثیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ دو روز کے دوران یمن میں 50 سے زائد فضائی حملے کیے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں بھی خدشات

یمن میں ایک مرتبہ پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات سعودی عرب تک محدود نہیں رہے بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم تجارتی گزرگاہوں کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر سے ملحقہ ساحلی علاقوں اور باب المندب کے اہم راستے میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔

اس صورتحال کے باعث عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ قطر نے بھی خبردار کیا ہے کہ باب المندب آبنائے کی بندش کے عالمی معیشت اور تجارت پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کو ملانے والا ایک اہم بحری راستہ ہے۔

 سعودی عرب کی امریکی مدد کی درخواست کا دعویٰ

کشیدہ حالات کے دوران امریکی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں مداخلت کی درخواست کی، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے مبینہ طور پر اس درخواست کو قبول نہیں کیا۔

دوسری جانب یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ واشنگٹن کی جانب سے سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات اور ممکنہ اہداف کے بارے میں معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور خطے میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی کے تناظر میں آئندہ کے اقدامات پر غور کررہی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان تنازع 2014 میں شدت اختیار کرگیا تھا۔ 2024 کے دوران لڑائی میں نسبتاً کمی دیکھی گئی، تاہم رواں برس جولائی سے خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…