منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

موٹر سائیکل سواروں کے لیے خوشخبری! 100 روپے سستے پیٹرول کے لیے بڑی شرط ختم

datetime 15  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم سے متعلق اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑی یا موٹر سائیکل شہری کے اپنے نام پر رجسٹرڈ نہ ہونے کی صورت میں بھی وہ مقررہ سبسڈی حاصل کرسکتا ہے۔

وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ اور علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران فیول ریلیف پروگرام کے خدوخال اور طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ شزہ فاطمہ نے اسکیم کے تحت دی جانے والی سہولتوں اور رجسٹریشن کے عمل کی تفصیلات بھی بیان کیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق عالمی حالات اور خطے میں جاری جنگ کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے اثرات سے کم آمدن والے طبقے کو تحفظ دینے کے لیے خصوصی فیول ریلیف پروگرام شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف مقرر کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل صارفین ہفتے میں ایک مرتبہ 5 لیٹر تک پٹرول پر سبسڈی حاصل کرسکیں گے، جبکہ ماہانہ حد 20 لیٹر مقرر کی گئی ہے، یعنی انہیں ماہانہ زیادہ سے زیادہ 500 روپے کا ریلیف ملے گا۔

اسی طرح 800 سی سی گاڑیوں کے لیے ہر 10 دن بعد 10 لیٹر پٹرول پر سبسڈی دی جائے گی۔ اس کی ماہانہ حد 30 لیٹر ہے، جس کے تحت گاڑی مالکان کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 1,000 روپے کی رعایت حاصل ہوگی۔

شزہ فاطمہ کے مطابق اسکیم میں 15 سال تک پرانی موٹر سائیکلیں جبکہ 20 سال تک پرانی 800 سی سی گاڑیاں شامل کی گئی ہیں۔

رجسٹریشن کیسے ہوگی؟

فیول ریلیف اسکیم میں شامل ہونے کے لیے شہری موبائل فون سے 9771 پر ایس ایم ایس بھیج سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کے دوران نام، شناختی کارڈ نمبر، گاڑی یا موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ، صوبے کے نام کا پہلا حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ فراہم کرنا ہوگی۔

گاڑی اپنے نام ہونا ضروری نہیں

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ جس موبائل نمبر سے رجسٹریشن کا ایس ایم ایس بھیجا جائے گا، وہ سم اور شناختی کارڈ شہری کے اپنے نام پر ہونا لازمی ہے۔ تاہم گاڑی یا موٹر سائیکل کا شہری کے نام پر رجسٹرڈ ہونا ضروری نہیں، اس صورت میں بھی وہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا اہل ہوگا۔

رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد شہری TOK لکھ کر 9771 پر ایس ایم ایس کریں گے، جس کے جواب میں انہیں ٹوکن کوڈ موصول ہوگا۔ شزہ فاطمہ کے مطابق پٹرول صرف اسی ٹوکن کوڈ کی بنیاد پر فراہم کیا جائے گا اور کسی دوسرے شخص کے ٹوکن نمبر پر ریلیف نہیں دیا جاسکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…