ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

نیٹ میٹرنگ ! سولر صارفین کو بڑی سہولت مل گئی

datetime 5  ستمبر‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)وزیر توانائی اویس لغاری کی خصوصی ہدایات پر 11 ہزار 695 زیر التوا ء نیٹ میٹرنگ درخواستیں حل کر دی گئیں،

حل شدہ کیسز کے صارفین سے براہِ راست رابطہ شروع کر دیا گیا۔نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ منتقلی کے دوران مجموعی طور پر 16 ہزار 654 درخواستیں زیر التوا ء تھیں۔ اویس لغاری کی ہدایات پر زیر التوا ء نیٹ میٹرنگ درخواستوں کی جامع تصدیق و توثیق شروع کی گئی۔ پی آئی ٹی سی 11 ہزار 695 صارفین سے میسج، واٹس ایپ اور ڈیجیٹل ذرائع سے رابطہ کر رہا ہے، صارفین اپنی نیٹ میٹرنگ درخواست کی حیثیت آن لائن پورٹل پر بھی چیک کر سکتے ہیں۔ہدایات میںکہا گیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ درخواست کی جلد پراسیسنگ کے لیے کسی فرد کو کوئی فیس ادا نہ کریں۔ براہِ راست رابطے کا مقصد صارفین کو ایجنٹوں اور غیر ضروری مداخلت سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکومت جائز نیٹ میٹرنگ صارفین کے معاملات شفاف طریقے سے بغیر کسی واسطے کے حل کر رہی ہے۔باقی 4 ہزار 959 نیٹ میٹرنگ درخواستوں کی قواعد و ضوابط کے مطابق تصدیق و توثیق جاری ہے۔ تصدیق کا مقصد جائز صارفین کے حقوق کا تحفظ اور غیر قانونی کنکشنز کی روک تھام ہے۔وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ حکومت سولر انرجی اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی بھرپور حامی ہے،

حکومت سولرائزیشن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ شفاف اور پائیدار نظام کی حامی ہے،سولرائزیشن ملک کے توانائی کے مستقبل کا اہم حصہ ہے۔اویس لغاری نے باقی زیر التوا ء نیٹ میٹرنگ درخواستوں کی جانچ جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صارفین کے جائز معاملات میں غیر ضروری تاخیر اور مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں، ہر صارف کو اس کی درخواست سے متعلق واضح معلومات فراہم کی جائیں۔انہوںنے کہا کہ جائز صارفین کو قواعد و ضوابط کے مطابق ان کا حق ضرور ملنا چاہیے، نیٹ میٹرنگ صارفین کے جائز معاملات کو شفاف اور براہِ راست طریقے سے حل کیا جائے، حکومت سولرائزیشن کے فروغ کے ساتھ صارفین کے جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…