ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی فون اور ٹیلی ویژن‘ شہر کی پانچ گلیوں میں صرف ایک فون تھا اور اس کا نمبر بھی بہت آسان تھا‘
ڈبل ون چناں چہ پورے شہر کو ہمارا نمبر حفظ تھا جب کہ آدھے شہر نے اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو ہمارا فون نمبر دے رکھا تھا یوں سال کے اندر اندر ہمارا فون پبلک بوتھ بن گیا‘ یہ ہر وقت بجتا رہتا تھا اور والد صاحب ہم بچوں کو مختلف گلیوں میں مطلوبہ لوگ تلاش کرنے کے لیے دوڑاتے رہتے تھے‘ فون کرنے والا صرف یہ بتا کر فون بند کر دیتا تھا آپ فلاں گلی کے فلاں گھر سے فلاں کو بلا دیں‘ اسے بتائیں اس کے بھتیجے یا بھانجے کا فون ہے‘ میں آدھ گھنٹے میں دوبارہ فون کرتا ہوں اور والد صاحب ہمیں اٹھا کر ’’فلاں‘‘ کی تلاش میں دوڑا دیتے تھے‘ اس زمانے میں زیادہ تر نام کامن ہوتے تھے چناں چہ ایک ہی گھر میں تین تین ماموں اشرف اور چچی صغریٰ نکل آتی تھیں‘ ان میں سے کس کے لیے فون آرہا ہے یہ تعین مشکل ہوتا تھایوں ہمیں ایک کے بعد دوسری چچی صغریٰ کے لیے بھاگنا پڑتا تھا لہٰذا ہم نے اس کا یہ حل نکالا ہم ساری چچی صغریٰ کو ایک ہی بار لے آتے تھے تاکہ یہ خود ہی اپنے بھتیجے یا بھانجے کا فیصلہ کر لیں‘ اکثر خواتین روٹی توے پر چھوڑ کر یا کپڑے دھوتی ہوئی اٹھ کر آجاتی تھیں‘وہ بعدازاں ہمارے گھر یا دکان پر بیٹھ کر دونوں ہتھیلیاں آپس میں رگڑ کر آٹا اورصابن صاف کرتی رہتی تھیں‘ ان کی اس ’’کارروائی‘‘ کو آخر میں ہمیں صاف کرنا پڑتا تھا‘یہ بعض اوقات آدھا آدھا دن بیٹھی رہتی تھیں لیکن بھانجے کا فون نہیں آتا تھا‘ اس زمانے میں ٹرنک کال ملنا اور وہ بھی دوسری بار خاصامشکل ہوتا تھا‘ والد صاحب شروع میں اپنی ’’ٹیلی فونک‘‘ شہرت کو بہت انجوائے کرتے تھے لیکن پھر یہ اکتا گئے کیوں کہ اکثر فون آڈ ٹائم پر آتے تھے‘
اس زمانے میں رات کی کال سستی ہوتی تھی لہٰذا لوگ عموماً رات کے وقت کال کر دیتے تھے اور ہمیں سردیوں کی یخ راتوں کو اٹھ کر لوگوں کو بلانا پڑتا تھا‘سردیوں کی رات میں جاگنا اور پھر آدھ آدھ گھنٹہ دوسرے لوگوں کے دروازے بجا بجا کر اعلان کرنا چچا آپ کا فون آیا ہے‘ یہ خاصا تکلیف دہ عمل تھا‘ اس دوران اکثر ان کے ہمسائے بھی جاگ جاتے تھے اور وہ بھی ’’اللہ خیر کرے‘‘ کا ورد کرتے ہوئے ساتھ ہی آ جاتے تھے‘ والد صاحب نے دکان اور گھر دونوں میں دو سیٹ لگوائے ہوئے تھے چناں چہ ایک فون دوسیٹوں پر بجتا تھا‘ یہ بھی خاصا اذیت ناک ہوتا تھا‘ ہمارا گھر چھوٹاتھا‘ رات کے وقت پانچ دس لوگوں کو بٹھانا مشکل تھا اور وہ بھی اس عالم میں کہ بعض اوقات دوسری طرف سے ساری ساری رات کال نہیں آتی تھی‘ اس زمانے میں لائنیں محدود تھیں جس کی وجہ سے کال نہیں ملتی تھی اور اس کے نتیجے میں کال کے منتظر لوگوں کو ساری رات فون کے قریب بیٹھنا پڑتا تھا اور ان کے لیے ہم بھی جاگتے رہتے تھے‘ میری والدہ ان لوگوں کو مہمان سمجھتی تھیں‘ انہیں بھی اٹھ کر ان کی مہمان داری کرنی پڑتی تھی چناں چہ والد صاحب بہت جلد تنگ آ گئے اور وہ رات کے وقت فون کریڈل سے اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دیتے تھے یوں ہم نے سکھ کا سانس لیالیکن یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک نہ چل سکا‘ دو ماہ بعد ہماری پچھلی گلی میں فون لگ گیا‘ وہاں سے رات کے وقت کوئی نہ کوئی شخص آ کر ہمیں اٹھا کر یہ پیغام دیتا تھا آپ اپنا فون چالو کریں‘ دوسرے ملک سے کال آ رہی ہے‘ میرے دو چچا اس وقت لیبیا میں کام کرتے تھے‘ ہم اس کال کو ان کی کال سمجھ کر فون ’’چالو‘‘ کر کے اس کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے لیکن وہ کال کسی دوسرے کی نکلتی تھی اور ہمیں اٹھ کر بھاگنا پڑجاتا تھا‘ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک شہر میں زیادہ فون نہیں لگے تاہم 1990ء کی دہائی تک فون کا کنکشن حاصل کرنا مشکل کام تھا‘ ایم این اے اور ایم پی ایز کو کوٹہ ملتا تھا اور اس کوٹے سے فون حاصل کرنا ذلت سے بھرپور عمل ہوتا تھا۔
ہمارا دوسرا سنگین مسئلہ ٹیلی ویژن تھا‘ ہمارے والد کو کسی نے بتا دیا امیر لوگوں کے گھروں میں ٹیلی ویژن ضروری ہوتا ہے چناں چہ انہوں نے 1975ء میں ٹی وی سیٹ خرید لیا‘ یہ جاپانی کمپنی ہٹاچی کا بلیک اینڈوائیٹ سیٹ تھا‘ یہ عرف عام میں ’’روسی ٹی وی‘‘ کہلاتا تھا اور خاصا بھاری بھرکم تھا‘ اس کے سامنے لکڑی کی کھڑکی لگی تھی جس کے پٹ دائیں بائیں فولڈ ہو جاتے تھے‘ اس زمانے میں ٹی وی سیٹوں کے اندر شیشے کی ٹیوبز ہوتی تھیں‘ سیٹ کے نیچے آواز اور پکچر کی کوالٹی کنٹرول کرنے کی ناب ہوتی تھیں‘ یہ ریڈیو سیٹ کی طرح گھمائی جاتی تھیں‘ پکچر کی ناب گھما کر ٹی وی آن اور آف کیا جاتا تھا‘ ہم ناب گھماتے تھے‘ ٹک کی آواز آتی تھی اور ٹی وی کے پچھلے حصے سے آگ جلنے جیسی آوازیں آنے لگتی تھیں‘ سیٹ کی ٹیوبز گرم ہوتی تھیں جس کے بعد سکرین پر بجلی کے کوندے سے لپکتے تھے جس کے بعد لکیریں سی آتی تھیں اور پھر وہ لکیریں تصویریں بن جاتی تھیں تاہم آواز تصویروں سے پہلے آ جاتی تھی‘ ٹی وی کی تصویریں سارا عرصہ لرزتی رہتی تھیں‘ وہ بعض اوقات پھنس بھی جاتی تھیں جس کے بعد سکرین پر صرف ایک لرزتی کانپتی تصویر رہ جاتی تھی لیکن آواز مسلسل آتی رہتی تھی‘ ٹی وی کے سگنل کیچ کرنے کے لیے چھتوں پر انٹینے لگائے جاتے تھے‘ ہم انہیں ’’ایریل‘‘ کہتے تھے‘ کیوں کہتے تھے اس کی وجہ آج تک سمجھ نہیں آئی‘ وہ المونیم کا سٹرکچر ہوتا تھا جس کے نیچے ڈنڈا لگا کر اسے چھت پر نصب کیا جاتا تھا‘ اس کے ساتھ سیاہ رنگ کی تار ہوتی تھی جو گول یا چوکور شو کے ذریعے ٹی وی سیٹ کے اندر لگتی تھی۔ ایریل ہوا سے ٹی وی کے سگنل کیچ کرتا تھا‘ ایریل کی ڈائریکشن ہوا سے بدل جاتی تھی جس کے بعد ٹی وی کی تصویر مدہم پڑ جاتی تھی یا پھر غائب ہو جاتی تھی‘ اس زمانے میں پی ٹی وی کے ڈرامے بہت مشہور ہوتے تھے‘
وہ آٹھ بجے لگتے تھے‘ ہم سب کھانا کھا کر فارغ ہو کر ٹی وی کے سانے بیٹھ جاتے تھے‘ بچے فرش پر بیٹھتے تھے جب کہ بزرگ چارپائیوں اور کرسیوں پر پوزیشن سنبھال لیتے تھے‘ ڈرامے سے پہلے ناز پان مصالحہ‘ ڈینٹونک پائوڈر‘ گائے سوپ‘ لائف بوائے اور سہراب سائیکل کے اشتہار آتے تھے اور پھر ڈرامہ شروع ہو جاتا تھا‘ عین ڈرامہ شروع ہوتے ہی ایریل ہل جاتا تھا اور سکرین پر تصویر لرزنے لگتی تھی جس کے بعد ہڑبونگ مچ جاتی تھی اور کسی نہ کسی بچے کو چھت کی طرف دوڑا دیا جاتا تھا‘ بچہ چھت کی منڈیر سے لٹک کر ایریل کا بانس آہستہ آہستہ گھماتا تھا اور ساتھ اونچی آواز میں پوچھتا تھا ’’آیا جے‘‘ اور نیچے سے دس بیس آوازیں اکٹھی آتی تھیں ’’نہیں آیا‘ نہیں آیا‘‘ ایریل سے لٹکا فدائی انٹینے کو تھوڑا سا مزید گھما دیتا تھا جس کے بعد نیچے سے اجتماعی آوازیں آتی تھیں ’’ آگیا آگیا‘رک جا‘ رک جا‘‘ اور وہ رک جاتا تھا‘ اس کے بعد فرمائش آتی تھی ذرا سا دائیں گھما یا بائیں گھما اور وہ بے چارہ بانس کو تھوڑا تھوڑا گھماتا رہتا تھا اگر کسی روز بارش یا ہوا ہوتی تھی تو گھر کے کسی فرد بالخصوص بچے کو گھنٹہ بھر چھت پر انٹینا پکڑ کر کھڑا رہنا پڑتا تھا‘ وہ بے چارہ سارا وقت منڈیر سے لٹک کر ڈرامے کے بارے میں اندازہ لگاتا رہتا تھا جوں ہی ڈرامہ ختم ہوتا تھا تو وہ دوڑ کر نیچے آتا تھا اور بے تابی سے پوچھتا تھا ’’کی ہویا سی‘ کی ہویا سی‘ کیا رضیہ مر گئی؟‘‘ اور خاندان میں کوئی شخص اسے سٹوری بتانے یا سنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا جس کے بعد وہ قسم کھا کر اعلان کرتا تھا ’’میں اگر اگلی قسط پر ایریل ٹھیک کرنے جائوں تو میں اپنے باپ کا نہیں ‘‘ لیکن بے چارے کو اگلی قسط پر ایک بار پھر قربانی دینا پڑ جاتی تھی‘ اس زمانے میں انڈیا نے امرتسر میں بوسٹر لگا دیا تھا جس کے بعد لاہور اور اس کے مضافات میں ’’دور درشن‘‘ (انڈین نیشنل ٹی وی) کے سگنل آنے لگے یوں پورا لاہور انٹینے گھما کر ٹی وی پر انڈین فلمیں دیکھنے لگا‘ ہمارے محلے کا ایک خاندان صرف انڈین فلمی گانے اور فلمیں دیکھنے کے لیے لالہ موسیٰ سے لاہور شفٹ ہو گیا تھا۔ 1976ء میں دور درشن پر ’’مغل اعظم‘‘ دکھانے کا اعلان ہوا جس کے بعد آدھے ملک نے اپنے انٹینے بدل لیے لیکن بدقسمتی سے دور درشن کے سگنل صرف گجرانوالہ تک پہنچے باقی سارا ملک اس شام انٹینوں سے لٹکا رہ گیا‘ مجھ سے عمر میں بڑے لڑکے مغل اعظم دیکھنے کے لیے بسوں پر بیٹھ کر لاہور گئے تھے۔
ہماری گلی میں صرف دو ٹیلی ویژن تھے‘ میجر برکت اور ہمارے گھر میں‘ میجر صاحب سخت تھے‘ کوئی ان کے گھر کی طرف رخ نہیں کرتا تھاجب کہ ہمارے والد اس معاملے میں نرم مزاج تھے لہٰذا آدھی گلی پونے آٹھ بجے ہمارے گھر پہنچ جاتی تھی‘ اتنے لوگوں کو ہینڈل کرنا بہت مشکل ہوتا تھا‘ والد صاحب نے ٹی وی کے سامنے پردے کا بندوبست کر کے خواتین اور مردوں کے دو پویلین بنا دیے تھے یوں عورتیں اور مرد الگ الگ بیٹھتے تھے‘ والدہ نے ٹی وی کو خراشوں اور گرد سے بچانے کے لیے کپڑے کا غلاف سی کر اس پر چڑھا دیاتھا‘ اس پر باقاعدہ کشیدہ کاری بھی کرائی گئی تھی جب کہ ٹی وی کو حاسدین کی نظروں اور خرابی سے بچانے کے لیے اس پر باقاعدہ تعویز چپکا دیا گیا لیکن وہ کم بخت اس کے باوجود خراب ہو جاتا تھا اور ہمیں ہر دس پندرہ دن بعد مکینک بلانا پڑتا تھا‘ اس زمانے میں بجلی میں ’’فلکچو ایشن‘‘ بہت ہوتی تھی جس کی وجہ سے ٹی وی کا فیوز اڑ جاتا تھا‘ فیوز چھوٹی سی ٹیوب ہوتی تھی جو ٹی وی کے نیچے لگتی تھی اور وہ باقاعدہ خریدنی پڑتی تھی‘ میں آہستہ آہستہ ٹی وی کا مکینک بن گیا اور خود ہی فیوز لگا کر اسے چلا لیتا تھا‘ ہمیں بعض اوقات ٹی وی چلانے کے لیے اسے تھپتھپانا بھی پڑتا تھا‘تھپتھپانے کا عمل بعدازاں تھپڑوں اور آخر میں جوتوں تک چلا گیا‘ ہم تعویز کو بچا کر اسے جوتا بھی مار دیتے تھے لیکن آپ جوتے اور تھپڑ کا کمال دیکھیے اس زمانے میں ٹی وی جوتا کھا کر واقعی ’’آن‘‘ ہو جاتا تھا‘اس دور میں ٹی وی سارا دن نہیں چلتا تھا‘ اس کی نشریات شام چھ یا سات بجے سٹارٹ ہوتی تھیں اور وہ رات نو بجے کے خبر نامے کے بعد ختم ہو جاتی تھیں‘ اس کے علاوہ ٹی وی پر بلیک اینڈ وائیٹ لہروں اور سی سی کی آوازوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا‘ شام نشریات شروع ہونے سے قبل ٹی وی سکرین پر پی ٹی وی کا مونو گرام اور سگنیچر ٹیون آتی تھی‘ یہ پندرہ منٹ چلتی تھی‘ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید اور اس کا ترجمہ چلتا تھا اور پھر انائونسر آ کر سب کو خوش آمدید کہتا تھا‘ جنرل ضیاء الحق کے دور میں قاری خوشی محمد کا اضافہ ہوگیا‘ قاری صاحب پی ٹی وی پر بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے‘ ہم نے بچپن میں قاری صاحب سے ٹی وی سکرین کے ذریعے قرآن مجید پڑھا‘ قاری صاحب شان دار شخصیت کے مالک تھے‘
وہ بلا کے قرآن فہم اور عربی شناس تھے‘ آج کل پمز کے سانحے کے بعد ہائوسنگ اینڈ ورکس کے فیڈرل سیکرٹری کیپٹن محمد محمود کو صحت کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا ہے‘ یہ پمز میں ٹینٹ لگا کر بیٹھ گئے ہیں اور پوری دنیا کا میڈیا انہیں بطور مثال پیش کر رہا ہے‘ یہ کیپٹن محمود ہم سب کے محسن اور استاد قاری خوشی محمد کے صاحب زادے ہیں‘ اللہ تعالیٰ قاری صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کی اولاد کو خیر اور برکت کا باعث بنائے‘انہوں نے ہزاروں لوگوں کو سکرین کے ذریعے قرآن پڑھایا اور سکھایا‘ پی ٹی وی کی نشریات دس بجے خبرنامے کے بعد قومی ترانے کے ساتھ بند ہو جاتی تھیں جس کے ساتھ ہی گھروں کی لائیٹس آف ہو جاتی تھیں اور پورا شہر سو جاتاتھا‘ صرف گلیوں میں چوکی دار کی سیٹیوں کی آوازیں اور ’’جاگتے رہو‘‘ کی صدائیں رہ جاتی تھیں‘ یہ سناٹا صبح کی اذان تک جاری رہتا تھا‘ پی ٹی وی کی نشریات بعدازاں رات بارہ بجے تک پھیلا دی گئیں‘ دس بجے کے بعد عموماً انگریزی فلمیں اور مشہور امریکی شو دکھائے جاتے تھے‘ اس زمانے میں سکس ملین ڈالر مین بہت مشہور ہوا‘ وہ امریکی سیزن تھا۔
ہم بچپن میں اپنے جوتے خود پالش کرتے تھے‘ اس زمانے میں جاپان سے ’’چیری بلاسم‘‘ نام کی شو پالش آتی تھی‘ اس پر دو چیریز کی تصویر ہوتی تھی‘ پاکستان کے 99 فیصد لوگ چیری کے وجود سے واقف نہیں تھے چناں چہ ہم جوانی تک چیری کو پالش سمجھتے رہے (جاری ہے)۔



















































