جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

کپاس کی پیداوار گرنے کے باوجود روئی کی قیمتیں کم ہوگئیں

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوارمیں کمی کے باوجود گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کی تجارتی سرگرمیاں مندی کی لپیٹ میں رہیں۔
اوپن مارکیٹ میں روئی کی قیمتوں میں 250 روپے تک کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ 200 روپے کی کمی سے 5300 روپے من کردیا، سندھ کی مارکیٹس میں روئی کی قیمتیں 4800 تا5500روپے من جبکہ پھٹی کی قیمتیں 2400 تا 2900 روپے فی 40 کلوگرام رہیں تاہم پنجاب کی مارکیٹس میں میں روئی کی قیمتیں 5200تا5500 روپے من اور پھٹی کی قیمتیں 2500 تا 3000روپے فی 40کلوگرام رہیں۔ جنرز نے کپاس کی پیداوار میں کمی اور روپے کی بے قدری کے باوجود کپاس کی قیمتوں میں کمی مارکیٹ اشاریوں کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ بڑی ٹیکسٹائل ملزنے مصنوعی کمی لانے کے لیے کارٹل بنایا ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ”ایکسپریس “کو بتایا کہ 31 اکتوبرتک کپاس کی پیداوار 23فیصد کمی سے 64 لاکھ65 ہزار 600 بیلز رہی جو توقع سے کافی کم ہے جبکہ روپے کے مقابل ڈالر کی قیمت میں اضافے کے پیش نظر امکان تھا کہ روئی اورپھٹی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا تاہم بڑے ٹیکسٹائل گروپس کی جانب سے روئی نہ خریدنے کیلیے کارٹل قائم کیا ہوا ہے اور بعض ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے بیرون ملک سے بڑی مقدار میں روئی خریدنے کی اطلاعات ہیں جس سے گزشتہ ہفتے روئی کی قیمتیں گر گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ چند روز کے دوران پھٹی کی ا?مد میں بہتری ا?ئی تاہم رواں سال کپاس کی پیداوار کے حوالے سے نیا تخمینہ 11 نومبر کو کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں طے کیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے روئی کی بین الاقوامی منڈیوں میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
دوسری طرف کراچی کاٹن بروکرزفورم نے گزشتہ ہفتے قیمتوں میں کمی کی وجہ ٹیکسٹائل واسپنگ ملزکی جانب سے روئی کی کم قیمت میں طلب، بڑے پیمانے پر درا?مد اور پھٹی کی رسد میں اضافے کو قرار دیا۔ فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کے مطابق بھارت، برازیل اورامریکا سے ٹیکسٹائل ملز نے وافرمقدار میں درآمدی معاہدے کرلیے ہیں، بھارت سے توروئی کی رسد بھی شروع ہو چکی ہے ان عوامل کے باعث روئی کی قیمت میں کمی ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ فصل کو وائرس کے حملے اور بارشوں وسیلاب کے باعث خاصا نقصان ہوا، کپاس کی پیداوار 1کروڑ 15 تا 20لاکھ گانٹھ متوقع ہے، ٹیکسٹائل بحران کے باعث کپاس کی کھپت کم ہوگی، اس کے باوجود 20 تا 22 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنا پڑیں گی تاحال15لاکھ کے درآمدی معاہدے ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھئیے: کیا عمران خان تیسری شادی کرنے والے ہیں ؟ سینئر اینکر کا دلچسپ جواب
مزید پڑھئیے: آسف علی زرداری اگلے اتوار گرفتار ہونے والے ہیں، ایک سینئر اینکر کا انکشاف



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…