اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواجہ سراﺅں کو سرکاری محکموں میں ملازمتیں ملنا شروع ہو گئیں

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

راولپنڈی (آن لائن) بھارت میں خواجہ سراءکی سب انسپکٹر کے عہدے پر تعیناتی اور دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواجہ سراﺅں کو سرکاری محکموں میں نوکری کے مواقع حاصل ہونا شروع ہو گئے ۔ راولپنڈی کے نیشنل کالج آف آرٹس کے مختلف شعبوں میں خواجہ سراﺅں کو بھرتی کر لیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں خواجہ سراﺅں کو نوکری کے محدود مواقع میسر ہوئے ہیں یا وہ اپنی زندگی گزارنے کے لئے گلی محلوں کا سہارا لیتے ہیں نجی اور سرکاری محکمے ان کو باعزت روزگار دینے سے کتراتے ہیں تاہم حال ہی میں ایک اہم تبدیلی آئی کہ راولپنڈی نیشنل کالج آف آرٹس نے اس حوالے سے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مختلف شعبوں میں متعدد خواجہ سراﺅں کو ملازمتیں فراہم کی ہیں ۔ نیشنل کالج آف آرٹس کے ڈائریکٹر ندیم عمر تارڑ نے میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ اس سے پہلے یہ سوالات اٹھائے گئے تھے کہ آیا کالج طلباءاور اساتذہ خواجہ سراﺅں کی بھرتی کے حوالے سے یہ فیصلہ قبول کریں گے یا نہیں لیکن طلباء اور اساتذہ نے اس فیصلے کو قبول کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد خواجہ سراﺅں کو پرسکون اور محفوظ ماحول میں کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے دیگر اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اختیارات کے تحت خواجہ سراﺅں کی بھرتی کاعمل شروع کریں جاب کے لئے خواجہ سراﺅں کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ بھی دیگر انسانوں کی طرح اپنی زندگی کو احسن طریقے سے گزار سکیں ۔ ادھر نیشنل کالج آف آرٹس میں کام کرنے والے خواجہ سراءشرمیلی جو کہ کینٹین پر خانساماں کا کام کر رہی ہے اور وہ خوش ہے ۔ فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں آفس اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کرنے والی وینا کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چار ماہ سے کام کر رہی ہے اس جاب کے ملنے کے بعد وہ اس قابل ہو گئی ہے کہ وہ ڈانسنگ کا کام چھوڑ دے گی وہ اپنی جاب سے خوش اور مطمئن ہے یہاں کام شروع کرنے کے بعد مجھے دیگر اداروں سے بھی ملازمت کی پیش کش آ رہی ہیں ۔ڈاکٹر تارڑ کے مطابق سپریم کورٹ نے 2012 ءکے اپنے فیصلے میں اس اقدام کو قانونی اجازت دی ہے لہذا حکومت کو خواجہ سراﺅں کی بھرتی کے لئے ایک میکنزم بنانا چاہئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…