منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

تنہائی کا شکار عورتوں کے مقابلے میں اکیلے رہنے والے مردوں کی غذا زیادہ خراب ہوتی ہے،تازہ تحقیق

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا کہ تنہائی کا شکار عورتوں کے مقابلے میں اکیلے رہنے والے مردوں کی غذا زیادہ خراب ہوتی ہے۔تنہا رہنے اور کھانے کی مقدار کے درمیان روابط کی تحقیقات کے لیے یہ پہلا جامع تحقیقی جائزہ ہے،جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکیلے رہنے والے لوگ غیر صحت مند اور کم غذائیت والی غذائیں کھانے کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔جریدہ ‘نیوٹریشن ریویو ‘ میں شائع ہونے والے پیپر میں محققین نے لکھا کہ ناکافی کھانا پکانےکی مہارت، خریداری کے لیے کسی کا ساتھ نا ہونا اور خاص طور پر کھانے پکانے میں توجہ کا فقدان بعض ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے اکیلے رہنے والے لوگوں کی کھانے پینے کی عادات مختلف ہوتی ہیں۔ کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے تحقیق کاروں کی ٹیم نے اکیلے رہنے اور غذائیت کی انٹیک کےدرمیان تعلق پر تحقیقات کرنے کے لیے 41 مطالعوں کا تجزیہ کیا ہے۔کوئنز یونیورسٹی میں ایکسرسائز اور نیوٹریشنز سائنس کے شعبے سے وابستہ تحقیق کار کیتھرین ہانا اور ڈاکٹر پیٹر کولنز نے کہا کہ ہمارے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اکیلے رہنے والے لوگوں کی غذا ئیں متنوع نہیں تھیں جبکہ ان کی خوراک میں کچھ بنیادی غذائی گروپوں مثال کے طور پر پھلوں، سبزیوں اور مچھلی کی کمی تھی۔ڈاکٹر ہانا کہتی ہیں تنہائی کا شکار افراد عمر ،صنف ،تعلیم سماجی اور اقتصادی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن ان میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ سب خود اپنے لیے کھانا پکانے کے لیے تیار نہیں تھے اور ان سب کے پاس کھانا نا پکانے کے لیے مختلف وجوہات تھیں۔مثال کے طور پر ایک شخص جو طلاق یافتہ یا شریک حیات کے دنیا سے گزر جانے کے بعد غمزدہ ہے، ممکن ہے اس سے پہلے شاید اپنی شریک حیات کے پکائے ہوئے کھانوں پر انحصار کرتا تھا اور کھانا پکانے کی ناکافی مہارت کی وجہ سے اپنے لیے صحت مند کھانا نہیں تیار کر سکتا ہے۔محققین نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ تنہائی صحت مند کھانوں کےلئے ایک رکاوٹ نظر آتی ہے مثال کے طور پر کھانے پکانے میں توجہ اور لطف اندوزی کی کمی کی وجہ سے اکیلے پن کا شکار افراد تیار شدہ کھانوں کو ترجیح دینا شروع کردیتے ہیں۔انھوں نے مزیدکہا کہ تعاون کی کمی اور صحت مند غذا کےلیے حوصلہ افزائی کی کمی ایسے عوامل ہیں جن سے غیر صحت مند خوراک کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ڈاکٹر کیتھرین ہانا کے مطابق اقتصادی عوامل بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہو سکتے ہیں جو ان کے کھانوں میں مچھلی ،پھل اور سبزیوں کی کم کھپت کی وضاحت کرتے ہیں۔ اسی طرح اکیلے رہنے والے لوگوں کی نفسیاتی مشکلات کا بھی ان کی غذا پر اثر تھا جیسا کہ ایک پچھلی تحقیق میں پتا چلا تھا کہ تنہائی بزرگوں میں غذائی قلت کی ایک اہم پیشگوئی ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…