ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

سا نحہ سندرانڈسٹریل اسٹیٹ ،ہلاکتوں کی تعداد29ہو گئی

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور(آن لائن)سندرانڈسٹریل اسٹیٹ میں منہدم ہونیوالی فیکٹری کے واقعہ میں ہلاکتوں کی تعداد29ہو گئی ،مزیدچار لاشیں نکال لی گئی ،ملبہ ہٹانے کے لئے اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی تازہ امدادی ٹیمیں طلب کرلی گئیں ،سراغ رسا ں کتوں کی مدد حاصل کرلی گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں منہدم ہونے والی فیکٹری کا ملبہ تیسرے دن بھی ہٹانے کا کام جارہی رہا، ملبہ ہٹانے کیلئے ڈرل مشینوں ، کٹرز اور کرینز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ملبے سے مزید 4 لاشیں نکالے جانے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 29 ہو گئی۔ لاپتہ مزدوروں کے غم زدہ ورثا فیکٹری کے باہر بیٹھے کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ قیامت سی قیامت ہے ، ملول چہرے ، اشکبار آنکھیں ، آہ و فغاں اور سسکیاں ، کسی کی آنکھوں کا نور چھنا ، کسی کا لخت جگر گیا ، کسی کا سہاگ اجڑا ، ملبے سے آوازیں آنے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ موبائل فون بند ہو گئے لیکن فیکٹری کے باہر حسرت ویاس کی تصویر بنے ورثا اب بھی کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ اس سے قبل پاک فوج اور ریسکیو کے جوانوں نے سائنسی آلات سے ملبے میں انسانی زندگی کے شواہد تلاش کئے۔ شواہد نہ ملنے پر ملبہ ہٹانے کا کام دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ لوہے کے سریوں کو کٹر سے کاٹنے کے بعد بھاری کرینوں سے چھت کا لینٹر ہٹا دیا گیا ہے۔ ملبہ ہٹانے میں پاک فوج کے اہلکار ، بحریہ ٹاو¿ن کی امدادی ٹیمیں اور ریسیکو عملہ یک جان ہو کر کام کر نے میں مصروف ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیاروں کے منتظر افراد کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں۔ عمارت کے بائیں حصے میں تیسری منزل کا لینٹر بڑی مشینری کے ذریعے ہٹا لیا گیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کی تعداد 400تک ہوسکتی ہے، 200کے لگ بھگ افراد ایک شفٹ میں کام کرتے تھے، جبکہ دیگر شفٹوں میں کام کرنے والے مزدور اسی چھت تلے کوارٹرز میں رہائش پذیر بھی تھے۔

مزیدپڑھیئے :جیوکے معروف اینکرکاریحام خان کوسونے کے ہارکاتحفہ ،جوطلاق کی وجہ بنا
مزیدپڑھیئے :کرسٹینابیکرنے عمران خا ن کے لئے اسلام کیوں قبول کیا۔۔؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…