ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

پیمرا نے میڈیا پر 72 کالعدم تنظیموں کی کوریج ممنوع قرار دے دی

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز اور ریڈیو سٹیشنز کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعت الدعوہ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن سمیت تمام 72 کالعدم تنظیموں کی کوریج نہ کریں۔پیر کو جاری ہونے والے اس نوٹس میں کالعدم تنظیموں کی فہرست کے ساتھ پیمرا نے دو صفحات پر مشتمل نوٹس جاری کیا ہے۔72 کالعدم تنظیموں کی بھی چانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔حکام نے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانا منع ہے۔ایسے پروگرام کو نشر کرنا یا س کا نشرِ مقرر ممنوع ہے جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو یا نقصِ امن کا خدشہ ہو۔اس قسم کا مواد نشر نہ کیا جائے جولوگوں کو تشدد پر ابھارے، اس کی معاونت کرے، ترغیب دیاور اسے اچھا بنا کر پیش کرے۔پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے چینلز کو جرمانے اور لائسینس کی معطلی جیسی سزاوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پیمرا کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس کے عنوان میں ’نیشنل ایکشن پلان: کالعدم تنظیموں کی حیثیت اور دہشت گردوں کی فائنینسنگ کا جائزہ‘ درج ہے۔پیمرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے سات نکات میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے جن میں کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعتہ الدعو? اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے کل 60 تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے جبکہ دیگر 12 تنظیمیوں پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ پیمرا کے ترمیمی آرڈینینس 2007 کے سیکشن 27 کے تحت کسی بھی ایسے پروگرام کو نشر کرنا یا س کا نشرِ مقرر ممنوع ہے جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو یا نقصِ امن کا خدشہ ہو۔نوٹس میں الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی دفعہ تین کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے مطابق لائسینس رکھنے والوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس قسم کا مواد نشر نہ کیا جائے جولوگوں کو تشدد پر ابھارے، اس کی معاونت کرے، ترغیب دیاور اسے اچھا بنا کر پیش کرے۔پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے چینلز کو جرمانے اور لائسینس کی معطلی جیسی سزاوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اگرچہ اس حکم نامے میں کالعدم تنظیموں یا ان سے منسلک امدادی اور فلاحی اداروں کی سرگرمیوں کی ترویج کا ذکر نہیں تاہم پاکستان میں زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے موقع پر کالعدم تنظیمیں امدادی کارروائیوں میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔گذشتہ ماہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے کے دو روز بعد ملک کے وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے کہا تھا کہ ’ہمیں نہ کسی کی مدد چاہیے اور نا ہی کسی قسم کی کالعدم تنظیم کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ زلزلے یا سیلاب کی آڑ میں اپنی زہر ناکی جس کو وہ پھیلاتے ہیں اس کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں وہ دور گزر گیا ہے، ضرب عضب کے نتیجے میں اس طرح کی تنظیمیں اپنی کمر بھی تڑوا چکی ہیں اور حکومت اپنے تمام کام اپنے حکومتی اداروں کے ذریعے کرتی ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…