اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مختلف ممالک سے ملک بدر کئے گئے پاکستانیوں کی واپسی کےلئے ایک واضح ایس او پی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی پاکستانی کو مکمل معلومات حاصل کئے بغیر واپس قبول نہ کیا جائے۔پیر کو یہاں اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیرداخلہ نے ہدایت کی کہ کسی بھی شخص کے ملک بدر کئے جانے کی صورت میں اس کی شہریت کا حتمی تعین اور ڈی پورٹ ہونے کی وجوہات معلوم کی جائیں ۔انہوںنے اس مقصد کےلئے ایس او پی ترتیب دینے اور وزارت خارجہ و بیرون ملک پاکستانی سفارتخاروں سے رابطے کےلئے وزارت داخلہ کی اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی ۔وزیر داخلہ نے کہاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بیرون ملک سفارتخاروں سے کسی بھی ملک بدر کئے گئے شخص کی عارضی سفری دستاویزات کے اجراءسے پہلے وزارت داخلہ اس کے قواعد کی تصدیق کرے ۔انہوںنے کہاکہ اس ضمن میں ایک ہفتے کے اندر واضح پالیسی پیپر تیار کر کے تمام سفارتخانوں کو بھجوایا جائے ۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ ہم پاکستان کو دنیا بھر کے جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔انہوںنے کہاکہ اٹلی سے ملک بدر کئے گئے عثمان غنی نامی شخص کا پشاور واقعہ سمیت دہشتگردی کی کسی کارروائی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ۔وزیر داخلہ نے وزارت میں مختلف عہدوں اور ذمہ داریوں کی تنظیم نو کر نے کی بھی ہدایت کی ۔اجلاس کو قومی ایکشن پلان پر پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر داخلہ کی کوششوں سے علماءاور حکومت کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن کے فارم پر اتفاق رائے ہوگیا ہے ۔وزیر داخلہ نے کہاکہ ملک کی سکیورٹی کویقینی بنانے اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کےلئے علماءکرام کی رہنمائی اور تعاون حوصلہ افزاءہے ہم علماءکے تعاون اور رہنمائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قوم کا حوصلہ بلند رکھنے اور دہشتگردوں کے گمراہ کن پروپیگنڈے کی حوصلہ شکنی کےلئے میڈیا کا کر دار مثالی رہا ہے ۔وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ این سی ایم سی اور نیکٹا کو آپس میں ضم کر نے کا عمل ایک ہفتے میں مکمل کیاجائے ۔اجلاس میں غیر ملکی این جی اوز کی رجسٹریشن کےلئے نئے ضابطہ کار پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور اجلاس کو ای سی ایل سے نام خارج کر نے کے حوالے سے بھی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ۔وزیر داخلہ نے کہاکہ آئندہ کوئی نام کسی ٹھوس وجہ کے بغیر ای سی ایل پر نہیں ڈالا جاسکے گا ۔وزارت داخلہ کی ای سی ایل کمیٹی اپنے اختیارات مکمل استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ نئی پالیسی پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو ۔ای سی ایل پالیسی کسی تفتیشی یا احتسابی ادارے پر پردہ ڈالنے کی بجائے آئین ¾ قانون اور بنیادی حقوق کی پاسداری کا مقدم رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے ۔وزیر داخلہ نے اسلام آباد انتظامیہ کو ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری اشیاءکی خریدو فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق مہم جاری رکھنے کی ہدایت کی اور انتظامیہ سے کہاکہ وہ اس مہم کے دور ان میڈیا کو ساتھ لیکر چلے ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت کے ملحقہ دیہی علاقوں میں سکیورٹی سروے 83فیصد مکمل ہو چکا ہے وزیر داخلہ نے انتظامیہ کو یہ سکیورٹی سروے 31دسمبر تک مکمل کر نے کی ہدایت کی ۔انہوںنے اسلام آبا دپولیس کو سرچ آپریشن بھی تیز کر نے کی ہدایت کی ۔اس موقع پر موجود ایف آئی اے حکام نے اجلاس کوبتایاکہ وفاقی دارالحکومت میں کچی آبادیوں کے قیام میں سہولت کار بننے والے عناصر کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ۔
مختلف ممالک سے ملک بدر کئے گئے پاکستانیوں کیلئے پاکستان کے دروازے بھی بند،اہم حکم جاری
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































