پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

واٹس ایپ پر شناختی کارڈ اور حساس دستاویزات بھیجنا خطرناک، ماہرین نے خبردار کردیا

datetime 17  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)قومی شناختی کارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ، پاسپورٹ، جائیداد کے کاغذات اور دیگر حساس دستاویزات واٹس ایپ کے ذریعے کسی غیر مصدقہ نمبر پر بھیجنا شہریوں کو شناخت کی چوری اور مالی فراڈ سمیت سنگین خطرات سے دوچار کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قرض فراہم کرنے والے ایجنٹس، پراپرٹی ڈیلرز، ہوٹل انتظامیہ یا مختلف مالیاتی و دیگر خدمات فراہم کرنے والے افراد شناخت کی تصدیق کے نام پر شہریوں سے اہم دستاویزات واٹس ایپ پر طلب کرتے ہیں، تاہم ذاتی نمبرز پر ایسی معلومات شیئر کرنے سے قبل ادارے اور وصول کنندہ کی مکمل تصدیق ضروری ہے۔ماہرین نے کہا کہ واٹس ایپ پر دستاویز بھیجے جانے کے بعد اس پر شہری کا کنٹرول محدود ہوجاتا ہے، کیونکہ فائل وصول کنندہ کے موبائل فون، کمپیوٹر یا کلاؤڈ بیک اپ میں محفوظ ہوسکتی ہے۔ بعد ازاں یہی دستاویز فارورڈ یا نقل ہونے کی صورت میں مزید افراد تک پہنچ سکتی ہے، جس سے حساس معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔شناختی کارڈ اور بینک دستاویزات میں موجود ذاتی و مالی معلومات غلط ہاتھوں میں پہنچنے کی صورت میں جعلی اکاؤنٹس، مالیاتی فراڈ، غیر ضروری رابطوں اور شناخت کی چوری جیسے جرائم میں استعمال ہوسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق حتیٰ کہ دستاویز وصول کرنے والا شخص قابلِ اعتماد ہو، تب بھی اس کے فون یا آن لائن اکاؤنٹ کے ہیک ہونے کی صورت میں معلومات افشا ہوسکتی ہیں۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ حساس دستاویزات واٹس ایپ پر بھیجنے کے بجائے متعلقہ ادارے کے سرکاری اور محفوظ آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جائیں۔ کسی بھی ادارے کی جانب سے دستاویز طلب کیے جانے پر پہلے اس کا باضابطہ لنک یا محفوظ اپ لوڈ نظام حاصل کیا جائے۔اگر کسی صورت واٹس ایپ کے ذریعے دستاویز بھیجنا ناگزیر ہو تو فائل کو پاس ورڈ سے محفوظ کرنے اور پاس ورڈ الگ ذریعے سے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شہریوں کو یہ بھی چاہیے کہ غیر ضروری طور پر مکمل شناختی کارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ یا دیگر حساس معلومات شیئر نہ کریں اور دستاویز فراہم کرنے کی ضرورت اور مقصد کی پہلے تصدیق کریں۔ماہرین نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں ذاتی معلومات ایک قیمتی اثاثہ ہیں، اس لیے شہریوں کو اپنی دستاویزات کے استعمال، ذخیرہ کرنے اور شیئر کرنے کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے۔ ایک بار حساس دستاویز کسی دوسرے شخص کے ذاتی فون یا کمپیوٹر تک پہنچ جائے تو اس کی تمام نقول اور ممکنہ بیک اپ پر نظر رکھنا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…