جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا تھا‘ سائرن بجتے تھے اور پورے شہر میں اندھیرا ہو جاتا تھا‘
حکومت نے تمام گھروں کے شیشے تک کالے کرا دیے تھے‘ کھڑکیوں پر پردے لازم تھے‘ رات کے وقت کھڑکیوں کے سامنے پردے تاننا لازم تھا‘ سائرن کے فوراً بعد شہر کی بجلی بند کر دی جاتی تھی جس کے بعد لالٹین‘ لیمپ یا دیا جلانا منع تھا‘ آٹھ بجے کے بعد کوئی شخص گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا چناں چہ شہر میں ہو کا عالم ہوتا تھا‘ سردیوں کا زمانہ تھا‘ اس دور میں سردی بھی زیادہ پڑتی تھی‘ لوگ گھروں میں کوئلے کی انگیٹھیاں یا لکڑیاں جلاتے تھے‘ سائرن کے بعد ان کو بھی کور کر دیا جاتا تھا یا پھر ان پر پانی ڈال کر بجھا دیا جاتا تھا‘ یہ بندوبست ائیرسٹرائیک سے بچنے کے لیے تھا‘ بلیک آئوٹ کے بعد فضا میں طیارے اڑنے کی آوازیں آتی تھیں‘ یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا تھا‘ جنگ کے بعد پاکستان ٹوٹ گیا‘ میں بچہ تھا‘ مجھے ان چیزوں کا اندازہ نہیں تھا لیکن میں آج تک لوگوں کے غم میں ڈوبے چہرے نہیں بھول سکا‘ پاکستانی بے انتہا اداس بلکہ پریشان تھے‘ میں نے لوگوں کو دھاڑیں مار کر روتے بھی دیکھا‘ والد کا بنگالی دوست بھی روتا رہتا تھا‘ چھائونی میں بھی اداسی تھی‘ فوج جب محاذ سے واپس آئی تو فوجیوں کے سر جھکے ہوئے تھے‘ لوگ بھی ان کے استقبال کے لیے باہر نہیں آئے ‘ آفیسر اب خریداری کے لیے بھی شہر نہیں آتے تھے‘ میجر مچھڑ کا تبادلہ لاہور ہو چکا تھا‘ وہ جنگ کے بعد دوبارہ نظر نہیں آیا‘ والد کا کاروبار بھی ڈائون ہونے لگا‘ فوج کے بجٹ پر کٹوتی لگ چکی تھی یا پھر چھائونی میں گیس آنے کی وجہ سے کوئلے کی ضرورت کم ہو چکی تھی‘
کوئی تبدیلی آئی تھی جس کا اثر کوئلے کی سپلائی پر پڑا تھا‘ بنگالی نے میرے والد کو مشورہ دیا ’’چودھری اس کاروبار کو چھوڑ دو‘ تم سفید کپڑے پہنتے ہو جب کہ اس کام میں ہاتھ اور منہ دونوں کالے ہوتے ہیں‘ کوئی سفید پوشوں والا کام کرو‘‘ اس کا دوسرا مشورہ تھا ’’تم کھاریاں چھوڑ دو‘ چھائونی کی وجہ سے اگلی جنگ میں اس پر حملہ ہو جائے گا‘ تم کسی محفوظ شہر میں چلے جائو‘‘ والد اس وقت تک کاروبار اور کھاریاں دونوں سے تنگ آ چکے تھے‘ ہماری دکان کے ساتھ ایک دکان دارکوئلے کا کاروبار کرتا تھا‘ وہ ہندوستان سے نقل مکانی کر کے کھاریاں آیا تھا‘ اس کا خاندان اسے ادب سے ’’بھیا‘‘ کہتا تھا‘ میرے والد بھی اسے اسی نام سے پکارتے تھے‘ بھیا 1947ء میں جب پاکستان آیا تو اسے لالہ موسیٰ میں گھر الاٹ ہوا‘ وہ غریب اور کم زور تھالہٰذا اس کے مکان پر کسی نے قبضہ کر لیا تھا تاہم اس کے پاس الاٹمنٹ لیٹر موجود تھا‘ والد اس زمانے میں کوئی گھر تلاش کر رہے تھے۔ ’’بھیا‘‘ نے انہیں اپنا گھر آفر کر دیا‘ وہ مناسب قیمت پر اپنا گھر بیچنے کے لیے تیار تھا تاہم اس کا کہنا تھا ’’چودھری قبضہ تم نے خود لینا ہے‘‘ والد صاحب کے لیے قبضہ زیادہ مشکل نہیں تھا‘ ہمارا گائوں لالہ موسیٰ سے صرف چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جس کی وجہ سے پورا گائوں قبضہ چھڑانے کے لیے شہر آ سکتا تھا لہٰذا والد صاحب نے مکان کے کاغذات خرید لیے‘ اس دوران والد نے لکڑی کا ایک آرا بھی خرید لیا‘ وہ کاروبار بری طرح ناکام ہوا جس کے آخر میں والد نے آرے پر موجود ٹاہلی کی لکڑی کا فرنیچر بنوا لیا اور ہم نے باقی زندگی اسی فرنیچر کے ساتھ گزاری‘ کھاریاں میں میرا بھائی بھی پیدا ہو گیا‘ والدہ سارا دن اسے مجھ سے بچاتی رہتی تھی‘ میں نے ماں کو دھمکی دے دی تھی آپ اگر اسے واپس کر کے نہ آئیں تو میں اسے ’’کھوئی‘‘ میں پھینک دوں گا لہٰذا والدہ سارا دن اسے اپنے ساتھ چپکائے رکھتی تھی جس سے میں مزید ’’جیلس‘‘ ہوتا تھا۔
اس زمانے میں جی ٹی روڈ سنگل تھی‘ اس پر پھٹیچرسی بسیں چلتی تھیں‘ وہ بسیں لوکل کہلاتی تھیں اور دس بارہ کلو میٹر کا سفر آدھے دن میں طے کرتی تھیں‘ ان میں اندرر اور باہر دونوں سائیڈز سے ڈیزل کی بو آتی تھی‘ بس کے اندر لوگ‘ مرغے‘ بکریاں اور بعض اوقات گدھے اکٹھے سفر کرتے تھے‘ ڈرائیور کو اگر سڑک پر دور کھیتوں سے کوئی شخص آتا دکھائی دیتا تھا تو وہ اسے سواری سمجھ کر بس روک کر کھڑا ہو جاتا تھا‘ وہ شخص بس دیکھ کر اپنی رفتار مزید کم کر لیتا تھا‘ اس صورت حال پر سواریاںشدید احتجاج کرتی تھیں لیکن ڈرائیور کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی تھی‘ کنڈیکٹر بس کو ہاتھ سے تھپتھپاتے رہتے تھے اور سواریوں کو آخری منزل کے بارے میں مطلع کرنے کے لیے آوازیں لگاتے رہتے تھے‘ بسوں کے اڈوں پر شربت کی دکانیں‘ چائے خانے اور کھانے کے ہوٹل ہوتے تھے جب کہ درجنوں پھیری باز بسوں کے اندر داخل ہو کر پنیاں‘ مرونڈے‘ گنڈیریاں‘ مونگ پھلی‘ ملوک‘ جلیبیاں اور دانت صاف کرنے کے منجن بیچتے تھے‘ اس زمانے میں تاریخ اور مہینے دریافت کرنے کے لیے جنتریاں چھپتی تھیں‘ وہ بھی آواز لگا کر بیچی جاتی تھیں‘ کنڈیکٹر عموماً لالہ موسیٰ کھاریاں کا لفظ اکٹھا بولتے تھے‘ دونوں شہروں کے درمیان تانگے بھی چلتے تھے‘ وہ سفر ذرا تکلیف دہ ہوتا تھا‘ تانگے کی وجہ سے جھٹکے لگتے تھے اور اچھا خاصا انسان لسی بن کر رہ جاتا تھا‘ اس زمانے میں شہروں میں مداری اور سنیاسی بہت آتے تھے‘ مداری کسی بھی سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر ڈگڈگی بجا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے‘ اپنے مفلر کا سانپ یا مور بنا کر زمین پر رکھتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے میں ابھی اس میں جان ڈال دوں گا اور یہ سانپ کی طرح رینگنا شروع کر دے گا‘ لوگ ان کی بات پر یقین کر کے آدھ دن مفلر کو دیکھتے رہتے تھے‘ وہ اس قدر چرب زبان ہوتے تھے کہ لوگ کام بھول کر ان کی تقریر سنتے رہتے تھے‘ مفلر آخر تک مفلر ہی رہتا تھا لیکن وہ مردانہ کم زوری یا حاسدوں کا بیڑہ غرق کرنے والے تعویذ بیچ کر غائب ہو جاتے تھے‘ مداری اس زمانے کا سٹریٹ تھیٹر ہوتا تھا اور یہ پورے ملک میں عام تھا۔ کھاریاں کی یادوں میں سے ایک بڑی یاد میلہ تھا‘ کھاریاں میں ہمارے گھر کے عین سامنے سال میں ایک مرتبہ میلا لگتا تھا‘سڑک کی دونوں سائیڈز پر کھانے کی دکانیں سج جاتی تھیں‘ حلوائی سرعام بڑے سائز کی جلیبیاں تلتے تھے‘ لوگ انہیں جلیب کہتے تھے اور یہ صرف میلے سے ملتی تھیں‘ حلوہ پوری بھی ملتا تھا اور ایک پیزا ٹائپ روٹی بھی ملتی تھی جسے شاید قتلمہ کہتے تھے‘ اس کے ساتھ موت کا کنواں ہوتا تھا جس میں موٹر سائیکل چلتا تھا‘ میلے کی سب سے اہم تفریح لکی ایرانی سرکس تھی جس میں شیر بھی ہوتے تھے اور ہاتھی بھی اور جمناسٹک کے کرتب بھی اور بونوں کی مزاحیہ حرکتیں بھی‘ موت کے کنوئیں اور لکی ایرانی سرکس کے سامنے اونچے پلیٹ فارم پر کھسرے ڈانس کرتے تھے اور پورا شہر جمع ہو کر ان کا دیدار کرتا تھا‘ میلے کے دو اہم ترین تھیٹر ہوتے تھے‘ایک عالم لوہار کا تھیٹر تھا اور دوسرا بالی جٹی کا‘ یہ دونوں پنجابی لوک گلوکار تھے اور اپنے زمانے کے لیجنڈ تھے‘
ان کے تھیٹر پورے پنجاب میں مشہور تھے‘ عالم لوہار بڑا سا چمٹا بجاتا تھا اور اس کی لے پر جگنی گاتا تھا جب کہ بالی جٹی کی آواز بھاری اور کھردری تھی لیکن اس میں پنجاب کا خاص رنگ تھا‘ دونوں کے تھیٹر آمنے سامنے ہوتے تھے‘ دونوں کی ٹکٹیں بلیک ہوتی تھیں اور دونوں کے انائونسرز بڑے بڑے لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے شائقین کو دعوت دیتے رہتے تھے‘ میلے میں سینکڑوں لائوڈ سپیکر ہوتے تھے‘ ان میں سے بھاری آوازیں نکلتی تھیں اور یوں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی‘ میلا پوری رات چلتا تھا‘ والدہ اس کے بہت خلاف تھیں اور اسے ’’کنجر خانہ‘‘ کہتی تھیں‘ یہ روزانہ تلاوت کرتی اور نماز پڑھتی تھیں‘ میلے کے لچر گانوں اور موسیقی کی وجہ سے یہ تلاوت نہیں کر پاتی تھیں چناں چہ یہ کھل کر انہیں کوسنے دیتی تھیں جب کہ میں چوری چوری گھر سے نکل کر پورے میلے میں گھومتا رہتا تھا‘ عالم لوہار اس زمانے کا شاہ رخ خان تھا‘ وہ عرف عام میں حاجی کہلاتے تھے‘ ان کا رنگ سفید‘ جسم فربہ اور چہرہ با رعب تھا‘ وہ ہمیشہ سفید کرتا اور تہبند باندھتے تھے‘ انہوں نے نیا میوزیکل انسٹرومنٹ ایجاد کیا تھا اور وہ تھا چمٹا‘ وہ تنور کے بڑے چمٹے کو خاص ردھم میں بجاتے تھے اور لوگ وہ آواز سن کر مدہوش ہو جاتے تھے‘ حاجی صاحب لالہ موسیٰ کے رہنے والے تھے‘ میرے والد کو جانتے تھے‘ وہ ایک بار ہماری دکان پر آگئے‘ انہیں دیکھ کر سینکڑوں لوگ وہاں جمع ہو گئے اور وہ بڑی مشکل سے وہاں سے نکلے‘ اس زمانے میں تصویروں اور آٹو گراف کی روایت اور سہولت نہیں تھی‘ لوگ فرط جذبات میں اپنے ہیرو یا پسندیدہ گلوکار کو ہاتھ لگاتے تھے اور اس عقیدت کے دوران اکثر اوقات ہیرو کے کپڑے پھٹ جاتے تھے‘ مجھے آج بھی یاد ہے عالم لوہار نے ہماری دکان سے نکلتے وقت دونوں ہاتھوں سے اپنا تہبند تھام رکھا تھا جب کہ اس کے دو ملازم لوگوں کو دائیں بائیں دھکیل کرراستہ بنا رہے تھے اور میرے والد نے حاجی صاحب کو پیچھے سے کور کر رکھا تھا‘ میرے چچا نے مجھے دبوچ کر سینے سے لگا رکھا تھا‘ اس کو خطرہ تھا میں کہیں لوگوں کے پائوں میں نہ کچلا جائوں‘ ہم لالہ موسیٰ شفٹ ہوئے تو چند برس بعد حاجی عالم لوہار لاہور کے قریب ٹریفک حادثے میں فوت ہوگئے‘ ان کا جنازہ لالہ موسیٰ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا‘ لاہور سے اس زمانے کے مشہور اداکار اور گلوکار بھی آئے تھے‘ ان کابیٹا عارف لوہار میرا ٹیوشن فیلو تھا‘ اس نے بعدازاں اپنے والد کی روایت قائم رکھی۔
کھاریاں کے میلے کی مزید دو یادداشتیں میرے ذہن میں نقش ہیں‘
ہمارے گھر کے بالکل سامنے کھسروں کا تھیٹر تھا‘ میں نے دہلیز پر کھڑے ہو کر دیکھا‘ میرے سامنے ایک بڑی عمر کا مرد سڑک کے کنارے سٹول رکھ کر نہایا‘ پھر اس نے زنانہ کپڑے پہنے اور پھر تھیلے سے مختلف پائوڈر اور رنگ نکال کر منہ پر لگائے‘ آخر میں سر پر عورتوں کے لمبے لمبے بال (وگ) اور سینے پر دو مضبوط خربوزے لگائے اور پوری عورت بن کر سٹیج پر چڑھ کر ناچنے لگا اور لوگ جوش میں اس کے نام کی ’’ویلیں‘‘ دینے لگے‘ میں مدت تک اپنے کلاس فیلوز کو یہ بتاتا رہا میں نے اپنی آنکھوں سے مرد کو عورت بنتے دیکھا لیکن کوئی یقین نہیں کرتا تھا۔دوسرا واقعہ لکی ایرانی سرکس کی ایک عورت تھی‘ وہ جمناسٹک کی کھلاڑی تھی اور کسی زنانہ ضرورت کے باعث ہمارے گھر آ گئی تھی‘ میری ماں نے اسے گرم دودھ میں ہلدی ملا کر پلائی‘ وہ مجھے بار بار اپنے ساتھ لپٹا رہی تھی‘ اس نے میری والدہ کو بتایا میرا بھی اتنا بڑا بیٹا تھا لیکن میرے خاوند نے اسے اپنے پاس رکھ کر مجھے گھر سے نکال دیا‘ وہ میری شکل میں اپنا بیٹا تلاش کر رہی تھی‘ وہ شام کے وقت دوبارہ ہمارے گھر آئی اور مجھے ساتھ لے کر سرکس چلی گئی‘ اس نے مجھے سامنے کی کرسیوں پربٹھا کر سرکس دکھائی‘ میں اس کے بعد اکثر اس کے خیمے میں چلا جاتا تھا‘ وہ مجھے جمیل کہتی تھی‘ کیوں کہتی تھی‘ میں آج تک نہیں سمجھ سکا‘ سرکس کے گرد درجنوں خیمے تھے جن میں سرکس کا سٹاف رہتا تھا‘ ان کی صبح اور دوپہریں بہت بور اور اجڑی اجڑی ہوتی تھیں‘ ان کے رنگ کالے‘ ایڑھیاں پھٹی ہوئی اور جسم لاغر تھے‘
ان میں سے اکثر شراب بھی پیتے تھے لیکن جوں ہی شام ہوتی تھی وہ میک اپ اور چمکیلے کپڑوں کی وجہ سے شہزادیاں اور شہزادے لگتے تھے‘ اس فرق نے مجھے طویل عرصے تک پریشان رکھا‘ جانوروں کے پنجرے بھی خیموں کے قریب تھے وہاں سے ہر وقت ناگوار اور ناقابل برداشت بو آتی رہتی تھی‘ سٹاف کے لیے دیگیں پکائی جاتی تھیں جن میں عموماً چاول اور گوشت ہوتا تھا‘ اسے سب مل کر اپنے گندے ہاتھوں سے کھاتے تھے اور ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دیتے تھے‘ آخر میں جو چاول‘ گوشت اور ہڈیاں بچ جاتی تھیں وہ جانوروں کو ڈال دی جاتی تھیں‘ میں نے زندگی میں پہلی اور آخری بار شیروں کو بھی چاول کھاتے دیکھا‘ وہ بے چارے شاید بھوک سے مجبور ہو کر چاول کھانے کے عادی ہو گئے تھے‘ مجھے ایک بار بالی جٹی کو دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا‘ وہ ایک بدصورت اور بے ہنگم عورت تھی لیکن لوگ اس کے اندھا دھند عاشق تھے‘ وہ اسے دیکھ کر اس کی طرف دوڑ پڑے‘ بالی جٹی نے انہیں دیکھتے ہی ننگی گالیاں دینا شروع کر دیں‘وہ ساتھ ساتھ اپنے ملازم فضلو کو ماں کی گالی دے کر کہہ رہی تھی ’’تم اس وقت آئو جب یہ سب مجھے ۔۔۔۔جائیں گے‘‘ فضلو یہ سن کر تین چار لڑکوں کے ساتھ دوڑتا ہوا آیا اور اسے ہجوم سے بچا کر اندر لے گیا‘بالی جٹی اندر جاتے ہوئے بھی فضلو کی ماں بہن کی مسلسل ’’تعریف‘‘ کر رہی تھی (جاری ہے)۔



















































