جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی بڑی جیت، چاول برآمدگی کیس میں بھارت کی اپیل خارج

datetime 13  اگست‬‮  2026 |

سڈنی/اسلام آباد(این این آئی) پاکستان کو باسمتی چاول کے برآمدی حقوق کے معاملے میں اہم قانونی کامیابی مل گئی،

جہاں آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے بھارتی ادارے ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی باسمتی سے متعلق ٹریڈ مارک اپیل مسترد کردی۔آسٹریلوی عدالت نے بھارتی اتھارٹی اپیڈا کو مخالف فریق کے قانونی اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے، آسٹریلوی وفاقی عدالت ٹریڈ مارک رجسٹرار کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔پاکستان کی وزارتِ تجارت نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ باسمتی کے معاملے پر پاکستان کے اصولی اور مستقل مؤقف کی تائید کرتا ہے۔وزارتِ تجارت کے مطابق بھارتی ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں باسمتی کو سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دی تھی، تاہم آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس نے 22 دسمبر 2022 کو درخواست مسترد کردی تھی۔

رجسٹرار کے فیصلے کے خلاف اپیڈا نے آسٹریلیا کی وفاقی عدالت سے رجوع کیا تاہم عدالت نے بھارتی ادارے کی اپیل بھی مسترد کردی ہے، بھارت کے ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں باسمتی کو چاول کے لیے سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دی تھی۔آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس کے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ باسمتی ایسا لفظ نہیں جس کے ذریعے صرف اپیڈا سے تصدیق شدہ چاول کو دوسرے ممالک میں قانونی طور پر پیدا اور فروخت ہونے والے باسمتی چاول سے الگ کیا جاسکے۔پاکستان کی وزارتِ تجارت کے مطابق آسٹریلوی رجسٹرار کے ابتدائی فیصلے میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا تھا کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے اور پاکستانی تاجروں کو بھی باسمتی کا نام استعمال کرنے کا مساوی اور جائز حق حاصل ہے۔وفاقی عدالت کی جانب سے اپیڈا کی اپیل مسترد کیے جانے کے بعد یہ مؤقف برقرار رہا ہے۔پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ باسمتی ایک ایسی جغرافیائی شناخت ہے جو تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت کے بعض علاقوں پر مشتمل خطے سے وابستہ ہے، اس لیے کسی ایک ملک یا ادارے کو اس نام پر مکمل اجارہ داری نہیں دی جاسکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…