جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

گولہ بارود کی کمی کے بعد امریکا کا کم قیمت ڈرون شکن میزائل تیار کرنے کا فیصلہ

datetime 6  اگست‬‮  2026 |

واشنگٹن (این این آئی )امریکی فوج نے گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کے بعد چھوٹے ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے کم لاگت والے نئے میزائل تیار کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج ایسے میزائل کی تلاش میں ہے جو کم قیمت ہونے کے باوجود چھوٹے بغیر پائلٹ طیاروں کو مثر انداز میں نشانہ بنا سکے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک خریداری دستاویز میں نئی ضروریات بیان کی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق امریکی فوج چاہتی ہے کہ ہر میزائل کی تیاری پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے کم لاگت آئے تاکہ انہیں بڑی تعداد میں تیار کیا جا سکے۔دستاویز میں کم از کم 5 ہزار میزائلوں کی خریداری کا ہدف بھی رکھا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج کم قیمت دفاعی نظام کو وسیع پیمانے پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔رپورٹ کے مطابق نئے میزائل کو ایسے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہونی چاہیے جن کا وزن تقریبا 20 سے 1,300 پانڈ کے درمیان ہو، جبکہ اس کی موثر مار تقریبا 15 میل تک ہونی چاہیے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ جنگوں میں کم قیمت ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کو اپنے فضائی دفاعی نظام پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے، کیونکہ مہنگے میزائلوں سے سستے ڈرونز کو گرانا اقتصادی طور پر مثر حکمت عملی نہیں سمجھی جاتی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کی نئی منصوبہ بندی کا مقصد دفاعی اخراجات میں کمی لانا، ڈرون حملوں سے مثر انداز میں نمٹنا اور مستقبل کے ممکنہ تنازعات کے لیے دفاعی تیاری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی میڈیا میں حالیہ دنوں یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ مختلف فوجی کارروائیوں کے بعد امریکا کے بعض اہم میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…