اسلام آباد(نیوزڈیسک)اسلام آباد میں کسٹمز کی حالیہ کارروائی کے بعد امتیاز سپر اسٹور، ڈی واٹسن کیمسٹ اور دیگر معروف ریٹیل آؤٹ لیٹس سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ان اسٹورز کی جانب سے جمع کرائی گئی درآمدی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آنے پر کسٹمز حکام نے الگ الگ مقدمات درج کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق چند ہفتے قبل کسٹمز کے سی آئی یو (CIU) ونگ نے اسلام آباد کے مختلف تجارتی مراکز میں کارروائیاں کرتے ہوئے بڑی مقدار میں درآمد شدہ پرفیومز، کاسمیٹکس، چاکلیٹس، جوتوں اور دیگر غیر ملکی اشیا اپنی تحویل میں لے لی تھیں۔ کارروائی کے وقت متعلقہ دکانیں ان اشیا کی درآمد سے متعلق مطلوبہ قانونی ریکارڈ فوری طور پر پیش نہ کر سکیں۔بعد ازاں کسٹمز حکام نے متعلقہ اسٹورز کو تین روز کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ گڈز ڈیکلریشن (GD) سمیت تمام متعلقہ درآمدی دستاویزات جمع کرائیں۔ مقررہ وقت کے اندر امتیاز سپر اسٹور، ڈی واٹسن کیمسٹ، شاہین گروسری، لائف اسٹائل کلیکشن، ہائز (HAYEES) اور دیگر اداروں نے مطلوبہ کاغذات جمع کرا دیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دستاویزات کی تصدیق کے دوران مبینہ طور پر پیش کی گئی گڈز ڈیکلریشنز درست ثابت نہ ہو سکیں، جس کے بعد کسٹمز حکام نے تمام متعلقہ اداروں کے خلاف علیحدہ علیحدہ ضبطگی اور قانونی کارروائی کے مقدمات درج کر لیے۔اس معاملے پر ڈپٹی کلیکٹر کسٹمز ڈاکٹر مدثر نے بتایا کہ متعلقہ اسٹورز کو درآمدی ریکارڈ فراہم کرنے کے لیے باضابطہ نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق جمع کرائی گئی جی ڈیز کی جانچ کے دوران مطلوبہ مطابقت سامنے نہ آنے پر قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام کیسز کی تفتیش جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دستیاب شواہد کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



















































