اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے دوست ممالک اپنے دیے گئے قرضے فوری واپس مانگ لیں تو ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے اور ڈالر کی قیمت 400 روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
پارکس کی تزئین و آرائش سے متعلق ایک افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کر رہی ہے اور پشاور میں تقریباً 200 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت گزشتہ مالی سال اپنے ریونیو اہداف حاصل نہیں کر سکی، جبکہ خیبرپختونخوا نے اسی عرصے میں 125 ارب روپے کے محصولات جمع کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا بلکہ غیر ضروری اخراجات کم کرکے مالی نظم و ضبط برقرار رکھا۔
وزیراعلیٰ نے ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح تقریباً 6 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد تک آ گئی ہے، جبکہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کا حجم 47 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 97 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر دوست ممالک اپنے قرضوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کریں تو ملکی کرنسی پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت 400 روپے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
اپنی گفتگو کے سیاسی حصے میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ 5 اگست کو وہ “سیمی فائنل” قرار دے رہے ہیں اور اس موقع پر ایسا لائحہ عمل پیش کیا جائے گا جس کے بعد واپسی کا راستہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دباؤ، طاقت یا تشدد کے ذریعے انہیں خوفزدہ کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔



















































