بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی پاسپورٹ رینکنگ 2026 مزید تنزلی، دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ

datetime 28  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد: ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کی تازہ رپورٹ میں پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی مزید نیچے آ گئی ہے۔

نئی فہرست کے مطابق پاکستان ایک درجہ تنزلی کے بعد 101ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے اور دنیا کے کمزور ترین چار پاسپورٹس میں بدستور شامل ہے۔ہینلے پاسپورٹ انڈیکس ہر سال دنیا کے 199 ممالک کے پاسپورٹس کا جائزہ لیتا ہے۔ اس رینکنگ کا معیار یہ ہوتا ہے کہ کسی ملک کے شہری بغیر پیشگی ویزا یا ویزا آن ارائیول کی سہولت کے ساتھ کتنے ممالک کا سفر کر سکتے ہیں۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں پاکستانی شہریوں کو 30 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل تھی، تاہم جولائی تک یہ تعداد کم ہو کر 29 رہ گئی۔ اسی کمی کے باعث پاکستان کی عالمی درجہ بندی 100ویں سے گر کر 101ویں پوزیشن پر آ گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2021 سے پاکستان مسلسل دنیا کے چار کمزور ترین پاسپورٹس میں شمار ہو رہا ہے۔ موجودہ درجہ بندی میں صرف افغانستان، عراق اور شام کے پاسپورٹس پاکستان سے کمزور قرار دیے گئے ہیں،

جبکہ یمن پاکستان سے ایک درجہ بہتر مقام پر موجود ہے۔پاکستانی شہری اب بھی بارباڈوس، ڈومینیکا، ہیٹی، روانڈا، دی گیمبیا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، وانواتو اور چند دیگر ممالک میں بغیر ویزا داخل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح کمبوڈیا، مالدیپ، نیپال، مڈغاسکر، پلاؤ، ساموا، سینیگال اور سیرا لیون سمیت متعدد ممالک پاکستانی مسافروں کو ویزا آن ارائیول کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق رواں سال کیپ ورڈے، موزمبیق اور قطر نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت ختم کر دی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ مزید متاثر ہوئی۔دوسری جانب ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں سنگاپور کا پاسپورٹ ایک مرتبہ پھر دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار پایا، جس کے حامل افراد 192 ممالک اور علاقوں میں ویزا فری یا آسان سفری رسائی رکھتے ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر جبکہ سویڈن تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…