اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں کمی کے آثار سامنے آنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال میں بہتری سے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی نے مثبت ردعمل دیا۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کے اعلان کے بعد پیر کے روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 5.58 فیصد کم ہو کر 91.38 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ کاروبار کے ابتدائی مراحل میں اس کی قیمت مختصر وقت کے لیے 90 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 5.46 فیصد سستا ہو کر 84.43 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ اس عرصے میں آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے اہم بحری راستوں سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تھی۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے اعلانات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے بقول اگر خطے میں امن کی فضا برقرار رہی تو خام تیل کی عالمی قیمتوں میں مزید استحکام آنے کا امکان موجود ہے۔



















































