ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

2076ء

datetime 26  جولائی  2026
آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا دن شرارتیں اور باتیں کرتی رہتی ہے‘ ہم نے اسے سکول داخل کرا دیا ہے‘ یہ سکول سے سیدھی میرے پاس آتی ہے‘ میں نے اپنی دراز میں چاکلیٹ رکھے ہوئے ہیں‘ یہ اس دراز پر حملہ کرتی ہے‘ چاکلیٹ کھاتی ہے‘ بیڈ پر بیٹھ کر ٹانگیں ہلاتی ہے اور پھر سکول کی ساری باتیں بتاتی ہے اور آخر میں اس کی فرمائش ہوتی ہے میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اوپر اس کے والدین کے کمرے میں چھوڑ کر آئوں‘ یہ روز کا معمول ہے بس جمعہ کے دن تھوڑی سی تبدیلی آتی ہے‘ اس دن میں اور میری بیوی اسے سکول سے لیتے ہیں اور اسے کسی اچھے سے ریستوران میں کھانا کھلاتے ہیں‘ اس دن یہ شاپنگ بھی کرتی ہے اور آئس کریم بھی کھاتی ہے‘ میں کل اس کے ساتھ بیٹھے بیٹھے سوچ رہا تھا آج سے ٹھیک 50 سال بعد یعنی 2076ء میں ہماری سنگت اور اس محبت کی کیا نوعیت ہو گی؟۔ مجھے محسوس ہوا محبت اور سنگت کا یہ سارا کھیل اس وقت تک بکھر چکا ہو گا‘ میں اور میری بیوی دونوں قبروں میں لیٹے ہوں گے اور ہماری ہڈیوں کا بھی حساب ہو چکا ہو گا‘ آئزل کی عمر اس وقت 53 سال ہو گی‘ اس کے اپنے بچے جوان ہو چکے ہوں گے اور شاید ان میں سے کسی کی شادی بھی ہو چکی ہو اور وہ میرے وجود سے بھی واقف نہیں ہوں گے‘ آئزل بھی اپنے بچپن کو بھول چکی ہو گی‘ اسے یہ سکول‘ یہ چاکلیٹ اور دادا کے ساتھ گپ شپ کچھ یاد نہیں ہوگا‘ زندگی کے دکھ اور پریشانیاں ان یادوں کی جگہ لے چکے ہوں گے‘ اس کے والدین 80 سال کے ہوں گے اور بیمار ‘ لاغر اور زندگی سے بیزار ہوں گے‘ یہ اگر ان کے قریب ہوئی تو یہ دن میں ایک آدھ بار ان سے رابطہ کر کے حال احوال پوچھ لے گی ورنہ دوسری صورت میں یہ بے چارے اسے یاد کر کے روتے رہیں گے‘ 2076ء تک یہ سکول‘ اس کی ٹیچرز‘ سلیبس‘ شہر کا نقشہ‘ یہ گیمز‘ یہ پارکس‘ یہ ریستوران‘ چاکلیٹ کے یہ فلیورز اور زندگی کے یہ سارے رنگ ڈھنگ ختم ہو چکے ہوں گے‘ یہ گھر جسے بنانے میں میری پوری زندگی لگ گئی یہ تقسیم در تقسیم ہو کر ختم ہو چکا ہو گا اور نئے مالکان نے اسے گرا کر اس کی
جگہ نئی بلڈنگ بنا لی ہو گی اور اسے گراتے ہوئے نئے مالکان نے ایک لمحہ کے لیے بھی یہ نہیں سوچا ہو گا اس میں ایک دادا اور اس کی تین سال کی پوتی کی محبت نے پرورش پائی تھی‘ اس کے ایک کمرے کی بیڈ سائیڈ کے دراز میں چاکلیٹ پڑے ہوتے تھے‘ تین سال کی بچی آہستہ آہستہ‘ چپکے چپکے سیڑھیاں اتر کر آتی تھی‘ دادا جھوٹی موٹی دوسری طرف منہ کر کے اس کے قدم گنتا رہتا تھا اور پھر وہ شیشے کا دروازہ بجاتی تھی‘ قہقہے لگاتی تھی اور اپنی توتلی زبان میں کہتی تھی ’’میں آگئی‘ میں آ گئی‘‘ دادا دروازہ کھولتا تھا اور وہ اس سے لپٹ جاتی تھی اور اس کا پہلا مطالبہ ہوتا تھا ’’کاکلیٹ‘‘ اور پھر وہ دادا کے بیڈ پر بیٹھ کر چاکلیٹ کھاتی تھی‘ پائوں ہلاتی تھی اور سکول کی ساری باتیں سناتی تھی اور آخر میں دادا سے مطالبہ کرتی تھی آپ میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر تک چھوڑ کر آئیں اور دادا اسے روز اوپر اس کی ماں کے کمرے تک چھوڑ کر آتا تھا لیکن نئے مالکان اس کے چھوٹے قدموں اور لمبی باتوں دونوں سے واقف نہیں ہوں گے اور یوں یہ کمرے‘ یہ سیڑھیاں اور چھوٹی بچی کے قہقہے یہ سب نئے مکان کی بنیادوں میں دفن ہو جائیں گے ‘ میرے ڈرائنگ روم کی دیوار پر میرے میڈلز لگے ہیں اور میزوں پر ان 121 ممالک کی یادگاریں پڑی ہیں جہاں میں گیا اور مجھے وہاں چند دن گزارنے کا موقع ملا‘ 2076ء تک یہ سب غائب ہو چکے ہوں گے‘ میرے بیٹوں نے انہیں ڈبوں میں بند کر کے سٹور روم میں رکھ دیا ہو گا اور یہ انہیں بھول چکے ہوں گے یا پھر یہ شفٹنگ کے دوران گم ہو چکے ہوں گے اور کسی کو یاد بھی نہیں ہو گا کسی نے ان میڈلز کے لیے اپنی پوری زندگی خرچ کر دی تھی اور اس نے ان کے فریمز کے لیے بھی دس دکانوں کا چکر لگایا ہو گا‘ میری لائبریری اور میری کتابوں کو بکے اور بکھرے ہوئے دہائیاں ہو چکی ہوں گی‘ میری گاڑی کس کباڑ خانے میں ہو گی اور میرا مری کا گھر کس کے پاس ہو گا یا پھر یہ ہو گابھی یا نہیں کوئی نہیں جانتا‘ میرے خواب‘ میرے خیال اور میرے منصوبے بھی کہاں ہوں گے؟ میرے دوست بھی کہاں ہوںگے؟ کیا ان میں سے ایک بھی زندہ ہو گا‘ میرے بہن بھائی کہاں ہوں گے؟ یہ بھی میری طرح زمین کے مختلف حصوں میں مٹی بن چکے ہوں گے‘ میری لکھی ہوئی کتابیں آئوٹ آف پرنٹ ہو چکی ہوں گی یا پھر فٹ پاتھوں پر بک رہی ہوں گی اور ان کا بھی کوئی خریدار نہیں ہو گا اور وہ کتابیں جو ابھی تک ڈائریوں میں درج یا ذہن میں پروان چڑھ رہی ہیں یا جنہیں میں لکھ لکھ کر سائیڈ پر رکھتا چلا جا رہا ہوں وہ کہاں ہوں گی؟ ان کے مسودے ردی میں بک چکے ہوں گے یا میرے بچوں کے سٹور رومز میں پڑے پڑے گل چکے ہوں گے یا آئزل اور اس کے بہن بھائی انہیں کسی کوڑے دان میں پھینک چکے ہوں گے اور یہ وقت کے ہاتھوں نابود ہو چکے ہوں گے۔ میری قبر 2076ء میں ویران اور اداس ہو چکی ہو گی‘ اس پر کوئی نہیں آتا ہو گا‘ نہ کوئی فاتحہ خوان اور نہ کوئی گل بان‘ یہ ویران قبروں کے جنگل میں بس ایک بے نام قبر ہو گی تاہم میں آئزل کے فیملی ٹری میں ضرور ہوں گا‘ اس سے جب بھی دادا کا نام پوچھا جائے گا تو یہ فوراً میرا نام لے گی اور ساتھ ہی اسے چند لمحوں کے لیے بچپن کے چاکلیٹ اور دو منزل کی سیڑھیاں بھی یاد آ جائیں گی اور یہ اس لمحے یہ بھی سوچے گی مجھے دادا کی قبر پر گئے ہوئے کتنے مہینے ہو گئے اور یہ فیصلہ کرے گی میں اس جمعرات پاپا اور دادو کی قبر پر جائوں گی‘ بابا کو بھی ساتھ لے کر جائوں گی لیکن یہ فیصلہ کبھی عملی شکل نہیں پا سکے گا‘یہ اگلی جمعرات تک اپنے کاموں میں پھنس کر دادا کو بھول چکی ہو گی اور یہ بھی عین ممکن ہے میری قبر اور اس کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہو اور یہ چاہ کر بھی مجھ تک نہ پہنچ پائے لیکن یہاں اور سوال بھی ہے‘ کیا میں اس کے بچوں کے فیملی ٹری میں بھی موجود ہوں گا؟ جی نہیں‘ ان بچوں کے دادا اور نانا کوئی اور ہوں گے اور ان کی یادداشتیں صرف ان تک محدود ہوں گی اور میں ان کی زندگی میں سرے سے ہوں گا ہی نہیں‘ وہ میرے وجود سے بھی واقف نہیں ہوں گے اور ان کے بچے اور پھر ان کے بچے میں شاید ان کے ڈی این اے سے بھی غائب ہو چکا ہوں گا اور میں اگر آج میں بیٹھ کر خود کو 2126ء میں رکھ کر دیکھوں تو ٹھیک سو سال بعد میرے بچوں کے بچے اور پھر ان کے بچے بھی دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں گے‘ میں خواہ کتنا ہی بڑا تیر چلا لوں یا میں خواہ کتنا ہی بڑا طرم خان ثابت ہو جائوں سو سال بعد میں اپنی ساری میں کے ساتھ خاک میں خاک ہو چکا ہوں گا‘ میرا ذکر تک نہیں ہو گا اذکار میں‘ میری کوئی ملکیت قائم نہیں رہے گی‘ میری کسی باقیات کا کوئی وجود نہیں ہوگا‘ نہ منقولہ اور نہ غیرمنقولہ‘ میں اگر قائداعظم بھی ہوا تو بھی میری نسل ختم ہو چکی ہو گی اور جائیداد بھی‘ میں صرف تصویروں میں زندہ ہوں گا اور یہ تصویریں بھی آخر وقت کا کتنا مقابلہ کر لیں گی‘ بے چارہ قائداعظم اور علامہ اقبال قیام پاکستان کے صرف 24 سال بعد 1971ء میں مشرقی پاکستان میںفوت ہو گئے تھے اور آج بنگلہ دیش کی نئی نسل ان کے نام سے بھی واقف نہیں‘ آج وہاں صرف جنرل یحییٰ خان زندہ ہے اور وہ بھی قصائی کے نام سے۔ آئزل کے ساتھ بیٹھ کر اس کے سکول کی روداد سنتے ہوئے میں کل سوچ رہا تھا 2076ء میں جب میں‘ میرے دوست‘ میرے بہن بھائی اور میرا سب کچھ ختم ہو جائے گا‘ جب سجن نہیں رہیں گے تو پھر دل دکھانے‘ کہنی مارنے‘ بے عزتی کرنے اور میرے جذبات کو اپنے غرور کے پائوں میں کچلنے والے کہاں ہوں گے‘ کیا یہ بچ جائیں گے‘ کیا ان کا نام ناموں کی فہرست میں موجود ہوگا یا پھر یہ بھی میری طرح بے نام ہوچکے ہوں گے اور ان کی قبریں بھی اپنا نام پوچھ رہی ہوں گی‘ یہ سوچ کر میری ہنسی نکل گئی‘ یہ دنیا بھی کمال جگہ ہے یہاں موسیٰ اور فرعون دونوں اپنی سلطنت کا پیوند بن جاتے ہیں‘ یہ بھی بس نام بن کر رہ جاتے ہیں اور وہ بھی اس صورت میں کہ اللہ نے ان کا ذکر اپنی چار کتابوں میں فرما دیا تھا‘ دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اترے تھے لیکن ہم 25 نبیوں سے زیاد کے نام سے واقف نہیں ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں میں باقی نبیوں کے نام نہیں دیے‘ وہ بھی یقینا زمین جائیداد‘وطن اور خاندانوں کے مالک ہوں گے اور ان کو بھی لوگوں نے دکھ اور سکھ دیے ہوں گے اور انہوں نے بھی زندگی میں بہت کچھ اچیو کیا ہو گا لیکن پھر وہ اور ان کی امتیں کہاں چلی گئیں؟ان کی اچیومنٹس اور ان کے نقصان بھی کہاں چلے گئے؟ کیا وہ سب بھی زمین کا رزق نہیں بن گئے لہٰذا جب 99 فیصد نبی اپنی امتوں سمیت رخصت ہو گئے اور جب نمرود‘ فرعون اور ابوجاہلوں کا قہر بھی ختم ہو گیا تو پھر ہم کون ہیں اور ہماری کام یابیاں اور ناکامیاں کیا ہیں‘ یہ کب تک برقرار رہ سکیں گے؟ میں نے سوچا جب میں عارضی ہوں تو پھر میری کام یابیاں‘ ناکامیاں‘ میرے دوست اور میرے دشمن کب تک زندہ رہ لیں گے‘ دنیا میں جب ہمارے وجود کی شیلف لائف چند برس ہے‘ جب ہم پچاس سال بعد اپنے خونی رشتوں کی یادداشت سے بھی محو ہو جاتے ہیں تو پھر ہماری کام یابیوں اور ناکامیوں کی کیا اوقات ہے‘ ہم اس دنیا میں کچھ کھوتے ہیں اور نہ کچھ پاتے ہیں‘ ہم بس آتے اور جاتے ہیں اور آنے جانے کا یہ کھیل زندگی کہلاتا ہے اور زندگی کا یہ کھیل بھی صرف بیس پچیس سال پر محیط ہوتا ہے‘ اس کے بعد معدومی کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور آخر میں ہم اپنے وجود اور نام کے ساتھ ’’ڈی کمپوز‘‘ ہوجاتے ہیں لہٰذا جب ہمارے وجود کی کوئی اوقات نہیں تو پھر نام کی کیا ہو گی؟ جب ہم ہی اہم نہیں ہیںتو پھر ہمارے عہدوں اور کرسیوں کی کیا اہمیت ہو گی چناں چہ 2076ء سے پہلے پہلے جو ہے اس پر شکر ادا کریں اور جتنی سانسیں بچی ہیں انہیں انجوائے کریں اور پھر مٹی کو مٹی میں مل کر مٹی ہونے دیں‘ ڈسٹ ٹو ڈسٹ اور زندگی کا کھیل ختم‘ نہ میں رہوں گا اور نہ دائیں بائیں موجود لوگ‘ 2076ء تک سب ختم۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…