بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کیلئے مہنگائی کا ’تحفہ‘ اور بیوروکریٹس کیلئے1.8 ارب الاؤنس کا تحفہ

datetime 22  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے ایک نئے خصوصی الاؤنس کی منظوری دے دی گئی ہے،

جس کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئی مالی سہولت کو “آل پاکستان سروسز کیڈر پوسٹس پیرٹی الاؤنس” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گزشتہ چار برسوں کے دوران اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے منظور کیا جانے والا دوسرا بڑا خصوصی الاؤنس ہے۔ اس سے قبل جون 2022 میں وفاقی حکومت نے 150 فیصد ایگزیکٹو الاؤنس کی منظوری دی تھی۔رپورٹ کے مطابق نیا الاؤنس یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور اس کی مالیت بنیادی تنخواہ کے کم از کم 100 فیصد کے مساوی ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔یہ الاؤنس آئین کے آرٹیکل 240 کے تحت آل پاکستان سروسز، جن میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) اور پولیس سروس آف پاکستان (PSP) شامل ہیں، کے گریڈ 17 سے 22 تک کے ان افسران کو دیا جائے گا جو وفاقی حکومت یا اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔وفاقی کابینہ نے اس کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ 150 فیصد ایگزیکٹو الاؤنس کا حساب اب 2017 کی بنیادی تنخواہ کے بجائے 30 جون 2026 کی موجودہ بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، جس سے متعلقہ افسران کو مزید مالی فائدہ حاصل ہوگا۔

حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد وفاقی اداروں میں خدمات انجام دینے والے افسران کو بہتر مراعات فراہم کرنا ہے، کیونکہ صوبائی حکومتوں، عدلیہ، نیب اور ایف بی آر جیسے اداروں میں نسبتاً زیادہ الاؤنسز دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث کئی افسران وفاق میں تعیناتی سے گریز کرتے ہیں۔دوسری جانب معاشی ماہرین اور بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف مخصوص گروپوں کو اضافی مراعات دینے کے بجائے سرکاری ملازمین کے مجموعی تنخواہی نظام میں جامع اصلاحات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر دیگر سرکاری سروسز میں بھی اسی نوعیت کے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں۔ادھر وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے کفایت شعاری کی پالیسی برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت نئی سرکاری گاڑیوں اور دیگر پائیدار سامان کی خریداری، سرکاری خرچ پر بیرونِ ملک علاج اور غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر پابندی برقرار رہے گی۔مزید برآں، سرکاری اجلاسوں میں صرف ایک ڈش کھانا اور چائے یا بسکٹ پیش کرنے کی ہدایت برقرار رکھی گئی ہے۔ تاہم فنانس ڈویژن کی آسٹریٹی کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق مخصوص معاملات میں ان پابندیوں سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…