بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

عوام کیلئے مہنگائی کا ’تحفہ‘ اور بیوروکریٹس کیلئے1.8 ارب الاؤنس کا تحفہ

datetime 22  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے ایک نئے خصوصی الاؤنس کی منظوری دے دی گئی ہے،

جس کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئی مالی سہولت کو “آل پاکستان سروسز کیڈر پوسٹس پیرٹی الاؤنس” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گزشتہ چار برسوں کے دوران اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے منظور کیا جانے والا دوسرا بڑا خصوصی الاؤنس ہے۔ اس سے قبل جون 2022 میں وفاقی حکومت نے 150 فیصد ایگزیکٹو الاؤنس کی منظوری دی تھی۔رپورٹ کے مطابق نیا الاؤنس یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور اس کی مالیت بنیادی تنخواہ کے کم از کم 100 فیصد کے مساوی ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔یہ الاؤنس آئین کے آرٹیکل 240 کے تحت آل پاکستان سروسز، جن میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) اور پولیس سروس آف پاکستان (PSP) شامل ہیں، کے گریڈ 17 سے 22 تک کے ان افسران کو دیا جائے گا جو وفاقی حکومت یا اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔وفاقی کابینہ نے اس کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ 150 فیصد ایگزیکٹو الاؤنس کا حساب اب 2017 کی بنیادی تنخواہ کے بجائے 30 جون 2026 کی موجودہ بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، جس سے متعلقہ افسران کو مزید مالی فائدہ حاصل ہوگا۔

حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد وفاقی اداروں میں خدمات انجام دینے والے افسران کو بہتر مراعات فراہم کرنا ہے، کیونکہ صوبائی حکومتوں، عدلیہ، نیب اور ایف بی آر جیسے اداروں میں نسبتاً زیادہ الاؤنسز دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث کئی افسران وفاق میں تعیناتی سے گریز کرتے ہیں۔دوسری جانب معاشی ماہرین اور بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف مخصوص گروپوں کو اضافی مراعات دینے کے بجائے سرکاری ملازمین کے مجموعی تنخواہی نظام میں جامع اصلاحات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر دیگر سرکاری سروسز میں بھی اسی نوعیت کے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں۔ادھر وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے کفایت شعاری کی پالیسی برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت نئی سرکاری گاڑیوں اور دیگر پائیدار سامان کی خریداری، سرکاری خرچ پر بیرونِ ملک علاج اور غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر پابندی برقرار رہے گی۔مزید برآں، سرکاری اجلاسوں میں صرف ایک ڈش کھانا اور چائے یا بسکٹ پیش کرنے کی ہدایت برقرار رکھی گئی ہے۔ تاہم فنانس ڈویژن کی آسٹریٹی کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق مخصوص معاملات میں ان پابندیوں سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…