بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

آج رات پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان

datetime 20  جولائی  2026 |
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج رات ایک مرتبہ پھر اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نئے روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت 20 جولائی کو نئی قیمتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق 18 سے 20 جولائی تک نافذ رہنے والی عبوری قیمتوں کی مدت آج ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد حکومت کی جانب سے تازہ نرخ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اس دوران مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو نمایاں طور پر اوپر دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 17 جولائی کو برینٹ خام تیل 86.09 ڈالر فی بیرل تھا، تاہم 20 جولائی کو مارکیٹ کھلنے کے بعد اس کی قیمت تقریباً 3.05 فیصد اضافے کے ساتھ 90.79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یوں صرف تین روز کے اندر خام تیل تقریباً 4.70 ڈالر فی بیرل مہنگا ہو گیا۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملکی سطح پر بھی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 8 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے بعد اس کا نرخ 316 روپے 15 پیسے سے بڑھ کر 324 روپے 15 پیسے فی لیٹر تک پہنچ سکتا ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ اندازہ ہے کہ ڈیزل موجودہ 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر تقریباً 395 روپے 10 پیسے فی لیٹر تک جا سکتا ہے، یعنی فی لیٹر 40 روپے 75 پیسے اضافے کا امکان موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق اوگرا نے مجوزہ اضافے سے متعلق ابتدائی ورکنگ مکمل کر لی ہے، تاہم اگر حکومت ٹیکسوں یا پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کرتی ہے تو عوام پر پڑنے والے بوجھ میں کچھ کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر ڈیزل کی قیمت میں یہ اضافہ نافذ ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے، مال برداری اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر نمایاں طور پر مرتب ہوں گے، کیونکہ ملک میں زیادہ تر تجارتی گاڑیاں اور زرعی مشینری ڈیزل پر انحصار کرتی ہیں۔ دوسری جانب پیٹرول مہنگا ہونے سے شہریوں کے سفری اخراجات بڑھنے کے ساتھ مجموعی مہنگائی میں بھی مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اوگرا عالمی مارکیٹ کے تازہ نرخ، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور دیگر معاشی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات حکومت کو ارسال کرے گی، جس کے بعد وزارتِ خزانہ نئی قیمتوں کی منظوری دے گی۔ منظوری ملنے کی صورت میں نئے نرخ آج رات 12 بجے سے نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ حکومت نے حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے روزانہ پرائسنگ میکانزم متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد عالمی مارکیٹ میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق مقامی قیمتوں کو زیادہ تیزی سے ایڈجسٹ کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…