اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

شیخ حسینہ واجد سے متعلقہ 6ارب 20کروڑ ڈالر کے اثاثے ضبط

datetime 16  جولائی  2026 |

ڈھاکہ(این این آئی)بنگلادیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ (بی ایف آئی یو)نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے متعلقہ 6ارب 20کروڑ ڈالر کے اثاثے ضبط کر لیے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق حکام نے بتایاہے کہ ضبط کیے گئے اثاثوں کا تعلق شیخ حسینہ واجد، خاندان اور 10 بزنس گروپوں سے ہے، حسینہ واجد کے بنگلادیش میں اور بیرون ملک اثاثے بھی ضبط کیے گئے ہیں۔سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے اثاثوں سے متعلق 2024سے تحقیقات جاری ہیں، حسینہ واجد ملک گیر طلبا احتجاج کے باعث عہدہ چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئی تھیں۔بی ایف آئی یو کے سربراہ اختیار الدین محمد مامون نے بتایا کہ شیخ حسینہ کے خلاف یہ کارروائی غیر قانونی دولت جمع کرنے، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی مشترکہ تحقیقات کے تحت کی گئی ہے۔ان کے مطابق منجمد کیے گئے اثاثوں میں 57 ہزار کروڑ ٹکا مالیت کے اثاثے بنگلادیش کے اندر جبکہ 19 ہزار کروڑ ٹکا مالیت کے اثاثے بیرون ملک موجود ہیں، بیرونِ ملک منتقل کی گئی دولت کی واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں اور امید ہے کہ سال کے اختتام تک اس حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

اختیار الدین محمد مامون نے واضح کیا کہ تحقیقات کے دوران کسی بھی شخص یا ادارے کی سیاسی وابستگی کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، جہاں بھی مشتبہ مالی لین دین یا منی لانڈرنگ کے شواہد سامنے آتے ہیں، متعلقہ بینک اکانٹس منجمد کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عبوری حکومت سے وابستہ کوئی فرد بھی ایسے معاملات میں ملوث ہوا تو تحقیقات میں اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔بی ایف آئی یو کے مطابق عبوری حکومت کے دور میں شیخ حسینہ کے خاندان اور 10صنعتی گروپوں کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔تحقیقات کی بنیاد پر اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ متعدد مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ بیرون ملک موجود اثاثوں کی واپسی کے لیے بین الاقوامی قانونی معاونت حاصل کرنے اور متعلقہ ممالک کے حکام سے تعاون بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…