منگل‬‮ ، 14 جولائی‬‮ 2026 

100 ملین ڈالر کے موبائل اسمگلنگ نیٹ ورک میں نامزد پاکستانی نژاد قطر سے گرفتار، امریکا کے حوالے

datetime 14  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا میں موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹس اور دیگر قیمتی الیکٹرانک آلات کی مبینہ چوری، فراڈ، منی لانڈرنگ اور بیرونِ ملک اسمگلنگ سے متعلق بڑے مقدمے میں پاکستانی نژاد عبداللہ انور کو قطر سے امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق حوالگی کے بعد اسے ٹیکساس کی کولن کاؤنٹی جیل میں رکھا گیا ہے۔امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ عبداللہ انور پر چوری شدہ سامان کی بین الاقوامی ترسیل، میل اور وائر فراڈ کی سازش، منی لانڈرنگ اور دیگر مالی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات وفاقی گرینڈ جیوری کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ عبداللہ انور کو اس مقدمے میں پہلے امریکا میں ضمانت ملی تھی، تاہم وہ بعد ازاں ملک چھوڑ کر پاکستان چلا گیا۔ بعد میں قطر پہنچنے پر اسے گرفتار کیا گیا اور 10 جولائی 2026 کو امریکی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ایف بی آئی کے مطابق اس کارروائی میں امریکی محکمۂ انصاف کے آفس آف انٹرنیشنل افیئرز نے قطری حکام کے تعاون سے اہم کردار ادا کیا، جبکہ قطر کی وزارت داخلہ اور پبلک پراسیکیوشن کے تعاون کو بھی سراہا گیا۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق عبداللہ انور کو مختلف اوقات میں ٹیکساس کے گارلینڈ اور رولیٹ کا رہائشی ظاہر کیا گیا، تاہم اس فرق کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔مقامی ذرائع کے مطابق عبداللہ انور کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ کافی عرصے سے ڈیلس کے علاقے میں رہائش پذیر تھا۔

جاننے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس کے طرزِ زندگی اور مالی حیثیت میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی، جبکہ وہ مہنگی گاڑیوں کے ساتھ بھی دکھائی دیتا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری دستاویزات یا تحقیقاتی اداروں نے آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق ملزم ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک سے منسلک تھا جس کے باعث گزشتہ پانچ برسوں میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصانات کا اندازہ لگایا گیا۔ تاہم امریکی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس تخمینے میں عبداللہ انور کا براہِ راست کردار کس حد تک شامل ہے۔یہ مقدمہ “آپریشن کیش آؤٹ” کے تحت زیرِ تفتیش ہے، جس میں متعدد وفاقی، ریاستی اور مقامی ادارے شریک ہیں۔ اس کیس میں ابتدائی طور پر 101 افراد کو نامزد کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں ملزمان کی تعداد بڑھ کر 112 تک پہنچ گئی۔استغاثہ کے مطابق مبینہ نیٹ ورک مختلف مراحل پر کام کرتا تھا، جن میں الیکٹرانک ڈیوائسز چوری یا فراڈ کے ذریعے حاصل کرنا، انہیں خریدنا، بیرونِ ملک منتقل کرنا اور منی لانڈرنگ کے ذریعے رقوم کو قانونی شکل دینا شامل تھا۔تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس نیٹ ورک سے تقریباً 70 ہزار سے زائد موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹس اور اسمارٹ واچز، جن کی مالیت تقریباً 100 ملین ڈالر بتائی گئی، بیرونِ ملک فروخت کیے گئے۔ اس کے علاوہ شناختی فراڈ کے ذریعے بھی ہزاروں ڈیوائسز حاصل کیے جانے کا الزام ہے، جبکہ مجموعی مالی نقصان کا تخمینہ 42 ملین ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔

قانونی وضاحت:
امریکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص پر فردِ جرم عائد ہونا اس کے جرم کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔ عدالت میں الزامات ثابت ہونے تک تمام ملزمان کو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…