اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مبینہ توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار نیوز اینکر ریحان طارق کو مقامی عدالت نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کی، جہاں ملزم کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی معاملات پر اظہارِ خیال کرتے وقت احتیاط ضروری ہے اور ایسے موضوعات پر گفتگو مناسب علم کے ساتھ ہونی چاہیے۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں رہی اور ابتدائی تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔
اس بیان کے بعد عدالت نے ریحان طارق کو 14 روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔واضح رہے کہ ریحان طارق کے خلاف مبینہ توہینِ مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔ اب مزید کارروائی عدالتی عمل کے مطابق جاری رہے گی۔



















































