اسلام آباد(این این آئی) بلوچستان میں پنجاب کے شہریوں کے نام پر غیر قانونی سموں کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھا دیئے گئے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں بلوچستان میں غیر قانونی طور پر سموں کی فروخت اور رجسٹریشن سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس میں بتایا گیا کہ بلوچستان کی 7 فرنچائزز نے پنجاب کے شہریوں کے نام پر تقریباً 2 ہزار سمیں فعال کیں۔رپورٹ کے مطابق فراڈ ثابت ہونے کے باوجود متعلقہ فرنچائزز کو صرف شوکاز نوٹس جاری کئے گئے تاہم نہ ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے اور نہ ہی کوئی جرمانہ عائد کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دو ٹیلی کام کمپنیوں پر ایک ارب 88 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کئے گئے اور انہیں شوکاز نوٹس بھی جاری کئے گئے تاہم ان فیصلوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
رپورٹ میں منظم جعلی سم فراڈ کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کو سنگین تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے قومی سلامتی اور ریگولیٹری نظام پر بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔آڈٹ حکام نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ بقایاجات کی فوری وصولی اور ذمہ داروں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔



















































