جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

مری بایو ڈائیورسٹی پارک: ترقی اور قدرتی حیات کے تحفظ کا منفرد پاکستانی ماڈل

datetime 6  جولائی  2026 |

مری: پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) کے تحفظ کو یکجا کرنے کی ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے محکمہ جنگلی حیات و پارکس پنجاب نے مری بایو ڈائیورسٹی پارک کی ازسرِنو تعمیر و ترقی کے دوران خصوصی ماہرینِ حیاتیاتی تنوع تعینات کیے، تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران قدرتی نباتات، جنگلی حیات اور قدرتی مساکن کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس منصوبے میں بطور بایو ڈائیورسٹی اسپیشلسٹ خدمات انجام دینے والے مدثر مقبول نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، قدرتی مساکن کے انتظام، ماحولیاتی جائزوں اور عوامی آگاہی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ منصوبے میں منیجر بایو ڈائیورسٹی، بایو ڈائیورسٹی اسپیشلسٹ اور فیلڈ افسران کی تقرری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ترقیاتی کاموں کو ماحولیاتی حساسیت اور مقامی نباتات و جنگلی حیات کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا گیا۔

مدثر مقبول نے پارک کی حیاتیاتی تنوع کی دستاویز سازی، نباتات و حیوانات کی نگرانی، ماحولیاتی خطرات کی نشاندہی، قدرتی مساکن کے بہتر انتظام اور بایو ڈائیورسٹی سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے منصوبے کے دوران تکنیکی رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے میں بھی معاونت کی کہ تحفظِ ماحول ہر مرحلے پر بنیادی ترجیح رہے۔

یہ منصوبہ اس بات کی عملی مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ اگر ترقیاتی منصوبوں میں ماہرینِ حیاتیاتی تنوع کو براہِ راست شامل کیا جائے تو ماحولیاتی اثرات کو کم کرتے ہوئے قدرتی وسائل کا پائیدار تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

*مری بایو ڈائیورسٹی پارک* پاکستان کے اولین بایو ڈائیورسٹی پارکس میں شمار ہوتا ہے اور اب عوام کے لیے افتتاح کے قریب ہے۔ توقع ہے کہ یہ پارک نہ صرف تفریح کا بہترین مرکز بنے گا بلکہ ماحولیاتی تعلیم، حیاتیاتی تنوع سے متعلق آگاہی اور سائنسی تحقیق کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

یہ منصوبہ سیکرٹری محکمہ جنگلی حیات و پارکس پنجاب کیپٹن (ر) طاہر ظفر عباسی کی قیادت میں تیار کیا گیا، جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر صبا افضل نے صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کے مطابق اس پر عمل درآمد کی نگرانی کی۔

یہ اقدام اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی ترقی صرف اسی صورت پائیدار ہو سکتی ہے جب بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ساتھ ساتھ چلیں۔ مری بایو ڈائیورسٹی پارک اسی وژن کی ایک کامیاب مثال ہے، جو پاکستان کے قدرتی ورثے کے تحفظ، سائنسی تحقیق اور عوامی شعور کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…