اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر واقع دانہ سر کے مقام پر ایک مسافر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے ہولناک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس دورانِ سفر حادثے کا شکار ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ بریک فیل ہونا بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلع شیرانی کی انتظامیہ، ریسکیو ٹیمیں، پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر امدادی ادارے فوری طور پر جائے حادثہ پہنچ گئے۔ خیبرپختونخوا سے بھی ریسکیو اہلکار امدادی سرگرمیوں میں شریک ہوئے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ کے مطابق زخمیوں کو ریسکیو کرکے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں نکالنے کا عمل بھی جاری ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم متعلقہ ادارے مسلسل آپریشن میں مصروف ہیں۔
حادثے کے بعد شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر سطح پر مدد یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو حادثے کی مکمل تحقیقات کرنے اور اسباب کا تفصیلی جائزہ لینے کی بھی ہدایت جاری کی، جبکہ جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان اس مشکل وقت میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔



















































