بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

موبائل فون سستے ، نئی ڈیوٹی کا اطلاق شروع!

datetime 2  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی حکومت نے درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہو گیا۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو ریلیف فراہم کرنا، قانونی درآمدات کی حوصلہ افزائی کرنا اور ٹیکس و ڈیوٹی کے نظام کو زیادہ متوازن بنانا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق یہ فیصلہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا حصہ ہے، جس کے تحت درآمدی اسمارٹ فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی منظوری دی گئی تھی۔ حکومتی فیصلے کے بعد نئی شرح کے مطابق ڈیوٹی کی وصولی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے باعث درآمدی لاگت کم ہوگی، جس کے اثرات مرحلہ وار مارکیٹ میں فروخت ہونے والے اسمارٹ فونز کی قیمتوں پر بھی نظر آئیں گے۔ اس فیصلے سے مہنگے، درمیانے اور کم قیمت موبائل فونز خریدنے والے صارفین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

پاکستان میں قانونی طور پر درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے علاوہ کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور پی ٹی اے رجسٹریشن فیس بھی لاگو ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی قیمتیں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔ نئی ڈیوٹی میں کمی کے بعد مجموعی لاگت میں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق 50 ہزار روپے مالیت کے فون کی قیمت میں تقریباً 4 سے 6 ہزار روپے، ایک لاکھ روپے کے فون میں 8 سے 10 ہزار روپے، ڈیڑھ لاکھ روپے کے فون میں 10 سے 12 ہزار روپے جبکہ دو لاکھ روپے کے اسمارٹ فون میں 12 سے 14 ہزار روپے تک کمی آ سکتی ہے۔

اسی طرح تین لاکھ روپے تک کے فونز تقریباً 15 سے 20 ہزار روپے، چار لاکھ روپے والے فونز 20 سے 25 ہزار روپے جبکہ پانچ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ مالیت کے اسمارٹ فونز 25 سے 35 ہزار روپے تک سستے ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اصل قیمتوں میں کمی مختلف برانڈز، ماڈلز، درآمدی اخراجات، پی ٹی اے ٹیکس اور دیگر قابل اطلاق ڈیوٹیوں کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

حکام کے مطابق 200 سے 300 امریکی ڈالر مالیت کے اسمارٹ فونز کی کیٹیگری میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ چونکہ پاکستانی مارکیٹ میں اسی قیمت کے فونز کی طلب سب سے زیادہ ہے، اس لیے متوسط طبقے کے صارفین کو اس فیصلے سے نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر درآمد کنندگان نئی ڈیوٹی کے مطابق تازہ کھیپ منگوا کر اس کا فائدہ مکمل طور پر صارفین تک منتقل کرتے ہیں تو آئندہ چند روز میں ملک بھر کی موبائل مارکیٹوں میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…