اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی حکومت نے درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہو گیا۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو ریلیف فراہم کرنا، قانونی درآمدات کی حوصلہ افزائی کرنا اور ٹیکس و ڈیوٹی کے نظام کو زیادہ متوازن بنانا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق یہ فیصلہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا حصہ ہے، جس کے تحت درآمدی اسمارٹ فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی منظوری دی گئی تھی۔ حکومتی فیصلے کے بعد نئی شرح کے مطابق ڈیوٹی کی وصولی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے باعث درآمدی لاگت کم ہوگی، جس کے اثرات مرحلہ وار مارکیٹ میں فروخت ہونے والے اسمارٹ فونز کی قیمتوں پر بھی نظر آئیں گے۔ اس فیصلے سے مہنگے، درمیانے اور کم قیمت موبائل فونز خریدنے والے صارفین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
پاکستان میں قانونی طور پر درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے علاوہ کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور پی ٹی اے رجسٹریشن فیس بھی لاگو ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی قیمتیں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔ نئی ڈیوٹی میں کمی کے بعد مجموعی لاگت میں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق 50 ہزار روپے مالیت کے فون کی قیمت میں تقریباً 4 سے 6 ہزار روپے، ایک لاکھ روپے کے فون میں 8 سے 10 ہزار روپے، ڈیڑھ لاکھ روپے کے فون میں 10 سے 12 ہزار روپے جبکہ دو لاکھ روپے کے اسمارٹ فون میں 12 سے 14 ہزار روپے تک کمی آ سکتی ہے۔
اسی طرح تین لاکھ روپے تک کے فونز تقریباً 15 سے 20 ہزار روپے، چار لاکھ روپے والے فونز 20 سے 25 ہزار روپے جبکہ پانچ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ مالیت کے اسمارٹ فونز 25 سے 35 ہزار روپے تک سستے ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اصل قیمتوں میں کمی مختلف برانڈز، ماڈلز، درآمدی اخراجات، پی ٹی اے ٹیکس اور دیگر قابل اطلاق ڈیوٹیوں کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق 200 سے 300 امریکی ڈالر مالیت کے اسمارٹ فونز کی کیٹیگری میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ چونکہ پاکستانی مارکیٹ میں اسی قیمت کے فونز کی طلب سب سے زیادہ ہے، اس لیے متوسط طبقے کے صارفین کو اس فیصلے سے نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر درآمد کنندگان نئی ڈیوٹی کے مطابق تازہ کھیپ منگوا کر اس کا فائدہ مکمل طور پر صارفین تک منتقل کرتے ہیں تو آئندہ چند روز میں ملک بھر کی موبائل مارکیٹوں میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔



















































