بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نئے بجٹ پر عملدرآمد شروع، ماہانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح برقرار

datetime 2  جولائی  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ نئے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے جس کے تحت ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار یا سالانہ 22 لاکھ آمدن پر ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار ہے جبکہ سالانہ 50 کروڑ روپے سے کم آمدنی والوں پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق نئے وفاقی بجٹ پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے اور ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار یا سالانہ 22 لاکھ آمدن پر ٹیکس کی شرح برقرار ہے۔نئے بجٹ میں 50 کروڑ سالانہ آمدنی پر سپر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، اس سے پہلے 50 کروڑ روپے آمدن پر ایک سے ساڑھے 7 فیصد تک سپر ٹیکس لاگو تھا۔

اسی طرح 50 کروڑ سے زائد آمدن والے افراد یا کمپنیوں پر اب 8 فیصد سپر ٹیکس لاگو ہوگا، اس سے پہلے 50 کروڑ سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد تھی، 15 کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن والے بعض افراد اور کمپنیوں پر 10 فیصد سپرٹیکس برقرار رکھا گیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے بینکنگ اور آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں پر 10 فیصد اور کھاد کی فروخت سے آمدن حاصل کرنے والوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس برقرار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…