بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے

datetime 1  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): شہر قائد میں سولر توانائی سے متعلق مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے،

جس کے باعث سولر پینلز، لیتھیم بیٹریاں اور انورٹرز پہلے کے مقابلے میں زیادہ سستے ہو گئے ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق کراچی کی الیکٹرانکس مارکیٹ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سولر سسٹمز کی قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ خاص طور پر لیتھیم بیٹریوں کی قیمت میں تقریباً 20 ہزار روپے جبکہ مختلف انورٹرز کی قیمتوں میں 10 ہزار روپے تک کمی آئی ہے۔ اسی طرح ایک سولر پلیٹ کی قیمت بھی اوسطاً 3 ہزار روپے کم ہو گئی ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ سے قبل سولر مصنوعات پر ممکنہ نئے ٹیکسوں کی خبروں کے باعث بعض ڈیلرز نے قیمتیں بڑھا دی تھیں، جبکہ کچھ کاروباری افراد نے زیادہ منافع کی توقع میں بڑی مقدار میں سولر سامان ذخیرہ بھی کر لیا تھا۔تاہم بجٹ میں سولر مصنوعات پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہ ہونے کے بعد مارکیٹ کی صورتحال تبدیل ہو گئی۔ درآمدات میں اضافے، مناسب اسٹاک کی دستیابی اور خریداری میں نسبتاً کمی کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

مارکیٹ میں اس وقت 585، 645 اور 720 واٹ کے سولر پینلز تقریباً 45 روپے فی واٹ کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ چند روز پہلے یہی پینلز تقریباً 50 روپے فی واٹ میں دستیاب تھے۔اسی طرح 5 کلو واٹ صلاحیت کی لیتھیم بیٹری کی قیمت تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار روپے ہے، جبکہ 3 سے 5 کلو واٹ کے انورٹرز مختلف برانڈز کے لحاظ سے 1 لاکھ 20 ہزار سے 3 لاکھ روپے تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔تاجروں کے مطابق اگر آئندہ دنوں میں سپلائی کی موجودہ صورتحال برقرار رہی اور طلب میں اچانک اضافہ نہ ہوا تو سولر مصنوعات کی قیمتیں مزید مستحکم رہنے یا معمولی کمی آنے کا امکان بھی موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…