اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

امریکا اور اسرائیل کے درمیان طلاق ہو جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان فون پر گفتگو کی تفصیلات منظر عام پر

datetime 24  جون‬‮  2026 |

پشاور (نیوز ڈیسک)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے وابستہ صحافیوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبینہ ٹیلی فونک گفتگو کی نئی تفصیلات سامنے لائی ہیں۔

صحافی میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان نے اپنی کتاب “Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump” میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اب بہت سے یہودی ان سے ناخوش ہیں اور اگر صورتحال یہی رہی تو امریکا بھی اسرائیل سے اپنا فاصلہ اختیار کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اس گفتگو میں انگریزی لفظ “Divorce” استعمال کیا، جس سے مراد دونوں ممالک کے تعلقات میں ممکنہ دوری یا علیحدگی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس فون کال کے دوران امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔

اسرائیلی میڈیا کی بعض رپورٹس میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں ان کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے اور کئی حلقے ان کی پالیسیوں سے ناخوش ہیں۔ مبینہ طور پر صدر ٹرمپ نے انہیں خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے معاہدے سے متعلق لچک نہ دکھائی تو واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران کے خلاف کارروائی کے ابتدائی مراحل میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعاون موجود تھا، تاہم بعد ازاں بعض معاملات پر اختلافات سامنے آنے لگے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات اور خطے میں امن کی کوششوں کے دوران دونوں قیادتوں کے درمیان بعض پالیسی معاملات پر اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے بھی حالیہ عرصے میں صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ بعض اسرائیلی اقدامات ایران کے ساتھ طویل المدتی امن کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران جنگ کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل دونوں ممالک کی قیادت کو اندرونِ ملک تنقید کا سامنا بھی رہا۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ حالیہ عبوری معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کے بعض اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔

تجزیہ کار تریتا پارسی کے مطابق لبنان کی صورتحال ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ تہران لبنان میں جنگ بندی اور اسرائیلی انخلا کے مطالبات پر زور دے رہا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی حالیہ بیانات میں لبنان میں شہری علاقوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات قابل قبول نہیں ہونے چاہییں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اختلافات کے باوجود امریکا خطے میں امن کے عمل کو متاثر نہیں ہونے دینا چاہتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…