بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

جاپان کی ویزا فیسوں میں بڑی تبدیلی، 50 سال بعد پہلی بار قیمتوں میں حیران کن اضافہ کر دیا

datetime 23  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جاپان نے ویزا اور امیگریشن فیسوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے

تقریباً پچاس برس بعد پہلی مرتبہ ان اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ نئی فیسوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنگل انٹری ویزا کی فیس 3 ہزار ین سے بڑھا کر 15 ہزار ین کر دی گئی ہے، جبکہ ملٹی انٹری ویزا کی قیمت 6 ہزار ین سے بڑھا کر 30 ہزار ین مقرر کی گئی ہے۔حکومت نے صرف ویزا فیسوں تک محدود نہ رہتے ہوئے امیگریشن سے متعلق دیگر خدمات کی فیسوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ مستقل رہائش (پرمننٹ ریزیڈنسی) کی درخواست کی زیادہ سے زیادہ فیس، جو پہلے 10 ہزار ین تھی، اب بڑھا کر 3 لاکھ ین تک کر دی گئی ہے۔اسی طرح قیام کی مدت میں توسیع یا رہائشی حیثیت میں تبدیلی کے لیے وصول کی جانے والی فیس بھی نمایاں طور پر بڑھا دی گئی ہے، جو پہلے 10 ہزار ین تھی اور اب ایک لاکھ ین تک پہنچ سکتی ہے۔حکام کے مطابق ویزا اور امیگریشن فیسوں میں یہ تبدیلی 1978 کے بعد پہلی بار کی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مہنگائی، معاشی تبدیلیوں اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے فیسوں کو موجودہ حالات کے مطابق بنانا ہے۔

سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ فیسوں میں اضافے کے باوجود فوری طور پر سیاحت کے شعبے پر کسی بڑے منفی اثر کی توقع نہیں کی جا رہی۔واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جاپانی ین کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور یہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکا ہے۔کورونا وبا کے بعد جاپان میں سیاحت کے شعبے نے تیزی سے ترقی کی ہے اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 4 کروڑ 27 لاکھ سیاحوں نے جاپان کا رخ کیا، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔جاپانی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا اور امیگریشن فیسوں کو دیگر ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً جی سیون ممالک جیسے امریکا اور برطانیہ کے معیار کے قریب لانا بھی ہے، جہاں ایسی فیسیں پہلے ہی نسبتاً زیادہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…