اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن امجد حسین ایڈووکیٹ بلا مقابلہ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، تاہم ان کے مدِ مقابل کسی دوسرے امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے۔
اس سے قبل گلگت بلتستان اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات بھی بغیر مقابلے کے مکمل ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے عمران ندیم اسپیکر جبکہ مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان ڈپٹی اسپیکر منتخب قرار پائے۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کرے گی، تاہم حکومت میں شمولیت اختیار نہیں کرے گی۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمان کو قائد حزبِ اختلاف منتخب کیا گیا ہے۔
امجد حسین ایڈووکیٹ 2016 سے پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں انہوں نے گلگت ون کے حلقے سے کامیابی حاصل کی۔ وہ ایک معروف قانون دان ہیں اور گلگت بلتستان کے آئینی اور قانونی معاملات پر گہری مہارت رکھتے ہیں۔
وہ 2020 سے 2025 تک گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن رہے جبکہ 2009 سے 2014 تک گلگت بلتستان کونسل کے رکن بھی رہے ہیں۔ 2020 کے انتخابات میں انہوں نے گلگت اور نگر کے دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے نگر کی نشست چھوڑ دی تھی۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں، جب خالد خورشید وزیراعلیٰ تھے، امجد حسین ایڈووکیٹ نے 2020 سے 2023 تک اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔
انہوں نے گلگت بلتستان لینڈ ریفارمز ایکٹ کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا، جسے 2025 میں اسمبلی نے منظور کیا۔ اس قانون کا مقصد مقامی باشندوں کو زمینوں کے مالکانہ حقوق فراہم کرنا تھا۔
امجد حسین نے 2016 میں ’’حقِ حکومت اور حقِ ملکیت‘‘ کی تحریک کا آغاز کیا، جو بعد میں پیپلز پارٹی کے انتخابی منشور کا حصہ بنی۔ وہ مسلسل گلگت بلتستان کو آئینی صوبے کا درجہ دینے کے حامی رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیپلز پارٹی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہونے کے باوجود گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی، جبکہ امجد حسین ایڈووکیٹ بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔



















































