پیر‬‮ ، 22 جون‬‮ 2026 

فیفا ورلڈکپ 2034 کیلیے پاکستان کا 4 لاکھ تربیت یافتہ کارکن بیرونِ ملک بھیجنے کا منصوبہ

datetime 22  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان نے فیفا ورلڈ کپ 2034 سے وابستہ منصوبوں کے لیے تین سے چار لاکھ ہنر مند اور تربیت یافتہ افراد بیرونِ ملک بھیجنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد عالمی لیبر مارکیٹ میں پاکستانی افرادی قوت کی موجودگی کو بڑھانا اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت افرادی قوت کی منصوبہ بندی کو فیفا ورلڈ کپ 2034 کے تحت پیدا ہونے والی متوقع ضرورتوں کے مطابق ترتیب دے رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 2026 سے 2034 کے درمیان پاکستانی کارکن تعمیرات، انفراسٹرکچر، ہوا بازی، سیاحت اور دیگر خدمات کے شعبوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔

دستاویزات کے مطابق حکومت افرادی قوت کی برآمد اور ہنر مند کارکنوں کی تیاری کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مارچ عرصے میں 2 لاکھ 15 ہزار 719 افراد کو سافٹ اسکلز کی تربیت فراہم کی گئی تاکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، موافقت اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع حاصل کرنے کی استعداد میں اضافہ ہو سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک ملازمت پاکستان کی لیبر پالیسی کا ایک اہم جزو بن چکی ہے۔ سال 2025 کے دوران بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے 7 لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانی کارکنوں کی بیرونِ ملک ملازمت کے لیے رجسٹریشن کی۔ جبکہ 1972 سے اب تک ایک کروڑ 50 لاکھ سے زائد پاکستانی 50 سے زیادہ ممالک میں سرکاری ذرائع کے ذریعے روزگار حاصل کر چکے ہیں۔

دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ پاکستانی کارکن خلیجی ممالک میں ملازمت کرتے ہیں، جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں۔ یہ کارکن ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سال 2025 کے دوران سعودی عرب پاکستانی افرادی قوت کے لیے سب سے بڑی منڈی ثابت ہوا، جہاں 5 لاکھ 30 ہزار 256 کارکن روزگار کے لیے گئے، جو مجموعی رجسٹریشن کا تقریباً 70 فیصد بنتا ہے۔ سعودی وژن 2030 کے تحت تعمیرات اور خدمات کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے منصوبوں نے ہنر مند افرادی قوت کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

حکومت خلیجی ممالک کے علاوہ دیگر خطوں میں بھی روزگار کے مواقع تلاش کر رہی ہے۔ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت اور افرادی قوت کے تعاون سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، جبکہ اٹلی نے آئندہ تین برسوں کے دوران 10 ہزار 500 پاکستانی کارکنوں کے لیے کوٹہ مختص کیا ہے۔ جرمنی اور یونان کے ساتھ بھی ہنر مند افرادی قوت کے تبادلے سے متعلق پیش رفت جاری ہے۔

حکومتی دستاویزات کے مطابق امیگریشن کے نظام کو جدید بنانے کے لیے پاکستان ایمیگرنٹ مینجمنٹ فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، جو مختلف اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لائے گا اور آن لائن تصدیق کے نظام کے ذریعے بیرونِ ملک ملازمت کے عمل کو آسان بنائے گا۔

اسی طرح ڈیجیٹل ایچ آر پول سسٹم بھی متعارف کرایا جا چکا ہے، جس میں بائیومیٹرک تصدیق، شفاف بھرتی اور ملازمتوں کی فراہمی کے جدید طریقہ کار شامل کیے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق حکومت مہارتوں کی ترقی، لیبر مارکیٹ اصلاحات اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع میں سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستانی افرادی قوت کو عالمی سطح پر زیادہ آمدنی اور بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…