اسلام آباد (نیوز ڈیسک):پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
حکومت نے موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ نان پی ٹی اے موبائل فونز کی رجسٹریشن کے لیے اقساط پر ادائیگی کا نظام متعارف کرانے کی تجاویز پر بھی غور جاری ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی نے سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ عوام کو سستی ٹیکنالوجی اور بہتر رابطوں کی سہولت فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پی ٹی اے ٹیکس کی قسطوں میں ادائیگی کے امکان پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سید نوید قمر کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں اور رجسٹریشن کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اراکین نے نشاندہی کی کہ بھاری ٹیکسوں کے باعث ملک میں بڑی تعداد میں نان پی ٹی اے موبائل فونز استعمال ہو رہے ہیں کیونکہ صارفین ایک ہی بار میں اتنی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
کمیٹی ارکان نے تجویز دی کہ موبائل فونز کی رجسٹریشن کے لیے قسطوں کی سہولت متعارف کرائی جائے، جیسا کہ دنیا کے کئی ممالک میں مختلف مصنوعات کی خریداری اور ادائیگی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر اور پی ٹی اے کو مشترکہ طور پر قابلِ عمل منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
اجلاس کے دوران ایف بی آر حکام نے موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں کی مختلف شرحوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق 30 ڈالر تک مالیت کے فونز پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہے، جبکہ 31 سے 100 ڈالر تک کے فونز پر یہ شرح 36 فیصد ہے۔ بتایا گیا کہ درآمد ہونے والے تقریباً 44 فیصد موبائل فونز اسی کیٹیگری میں شامل ہیں۔
اسی طرح 101 سے 200 ڈالر قیمت کے فونز پر 40 فیصد، 201 سے 350 ڈالر تک کے فونز پر 38 فیصد اور 351 سے 500 ڈالر مالیت کے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد مؤثر ٹیکس لاگو ہے۔ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے مہنگے اور فلیگ شپ فونز پر ٹیکس کی شرح 41 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق موبائل فونز پر عائد ٹیکس کی رقم مختلف کیٹیگریز کے لحاظ سے تقریباً 1500 روپے سے شروع ہو کر ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے تک جا سکتی ہے، جبکہ مجموعی طور پر درآمدی موبائل فونز پر اوسط مؤثر ٹیکس شرح 39.6 فیصد بنتی ہے۔
Alhamdulillah, the regulatory duty on smartphones has been abolished. A positive step towards making connectivity and technology more accessible and affordable for the people of Pakistan. #PTATax
— Kasim Gilani (@KasimGillani) June 21, 2026



















































