بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں بجلی مہنگی ہونے کا امکان

datetime 17  جون‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے،

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)نے مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخوں میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔سی پی پی اے کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق مئی کے دوران بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے فی یونٹ لگایا گیا تھا، جس کے باعث نرخوں میں اضافے کی ضرورت پیش آئی۔درخواست میں بتایا گیا ہے کہ مئی 2026 کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ اگر نیپرا نے درخواست منظور کر لی تو بجلی صارفین پر تقریبا 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔دستاویزات کے مطابق مئی میں بجلی کی پیداوار میں سب سے بڑا حصہ پن بجلی کا رہا، جو مجموعی پیداوار کا 33.27 فیصد تھا۔ مقامی کوئلے سے 11.66 فیصد، درآمدی کوئلے سے 13.54 فیصد، مقامی گیس سے 8.31 فیصد، درآمدی ایل این جی سے 11.81 فیصد جبکہ جوہری ایندھن سے 14.25 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 0.16 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست پر 30 جون کو سماعت مقرر کر دی ہے، جس کے دوران فیول لاگت اور دیگر تکنیکی امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ سماعت کے بعد اتھارٹی بجلی کے نرخوں میں اضافے یا موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گی۔توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخوں میں ردوبدل عالمی ایندھن قیمتوں، پیداواری لاگت اور بجلی کے ذرائع کے تناسب سے منسلک ہوتا ہے، تاہم حالیہ مجوزہ اضافہ صارفین کے لیے اضافی مالی دبا کا سبب بن سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…