بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سولر صارفین کی حوصلہ شکنی، کم بجلی استعمال کرنے والوں پر زیادہ فکسڈ چارجز لگانے کی تجویز

datetime 5  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )حکومت نے صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں کا نیا ڈھانچہ متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت بجلی کے استعمال کی مقدار کے مطابق مختلف چارجز عائد کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ پالیسی کا مقصد صنعتوں کو قومی گرڈ سے منسلک رکھنے اور بجلی کے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

پاور ڈویژن سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت کم بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں کے لیے فکسڈ چارجز میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی صارفین کو فی یونٹ نسبتاً کم نرخ پر بجلی فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اطلاعات کے مطابق صنعتی بجلی کے نرخ 6 سے 8 سینٹ فی یونٹ تک لانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ اس اقدام سے صنعتیں سولر توانائی یا متبادل ذرائع کی جانب منتقلی کے بجائے قومی گرڈ کا استعمال جاری رکھیں گی۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ٹیرف پلان عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی شیئر کیا جا چکا ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت سے ان صنعتوں کے اعداد و شمار طلب کیے ہیں جو بجلی کے استعمال میں کمی کر چکی ہیں یا قومی گرڈ سے علیحدگی اختیار کر رہی ہیں۔

حکومتی منصوبے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اس نئی پالیسی کا اطلاق صرف صنعتی صارفین پر ہوگا، جبکہ بعد میں اسے کمرشل اور گھریلو شعبوں تک وسعت دی جا سکتی ہے۔ تخمینہ ہے کہ اس اقدام سے بجلی کی مجموعی طلب میں تقریباً ایک ہزار میگاواٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

حکام کا مؤقف ہے کہ بجلی کے نظام اور قومی گرڈ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایسی پالیسی ناگزیر ہے، جبکہ اس کا بنیادی مقصد صنعتوں کو گرڈ سے منسلک رکھنا اور توانائی کے شعبے میں مالی استحکام پیدا کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…