اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)سپین میں مقیم اور غیر دستاویزی حیثیت سے کام کرنے والے تقریباً 24 ہزار پاکستانیوں کے لیے قانونی رہائش حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ہسپانوی حکومت کی 2026 کی خصوصی ریگولرائزیشن سکیم کے تحت ایسے افراد کو رہائشی اور ورک پرمٹ حاصل کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔صحافی علی حمزہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کو آگاہ کیا کہ یہ ایک غیر معمولی موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستانی شہریوں کی دستاویزی ضروریات پوری کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔اس مقصد کے لیے پاکستانی ادارے تقریباً 8 ہزار پاسپورٹس، 24 ہزار پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس اور 10 ہزار حلف نامے جاری کر رہے ہیں تاکہ درخواست دہندگان مقررہ وقت میں اپنی فائلیں مکمل کر سکیں۔
اس سکیم کے تحت وہ غیر قانونی تارکین وطن جو سپین میں کم از کم چھ ماہ کام کرنے کا ثبوت فراہم کر سکیں، ایک سالہ رہائشی اور ورک پرمٹ کے اہل ہوں گے۔ یہ پرمٹ عموماً دو سے تین ہفتوں کے اندر جاری کیا جا رہا ہے اور قانون کی پابندی و ٹیکس ادائیگی کی صورت میں اس کی مدت میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔سپین میں پاکستان کے سفیر ظہور احمد نے کمیٹی کو بتایا کہ متعدد پاکستانی شہری پہلے ہی کامیابی سے ورک پرمٹ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہسپانوی حکام نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے اجازت دی جا رہی ہے، جس کے بعد درخواست گزار کے طرزِ عمل، ٹیکس ریکارڈ اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔اعداد و شمار کے مطابق سپین میں تقریباً پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن موجود ہیں، جن میں پاکستانیوں کی تعداد لگ بھگ 24 ہزار ہے۔
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بتایا کہ درخواست گزاروں کی سہولت کے لیے لاہور اور گجرات میں خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے پاسپورٹس اور کریکٹر سرٹیفکیٹس سمیت دیگر ضروری دستاویزات کی فراہمی کو آسان بنایا گیا ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران میڈرڈ اور بارسلونا میں پاکستانی سفارتی مشنز نے تقریباً 8 ہزار پاسپورٹس جاری کیے جبکہ 10 ہزار سے زائد حلف ناموں اور اتھارٹی لیٹرز پر کارروائی مکمل کی گئی۔



















































