لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے ایک شہری کی مبینہ گمشدگی اور عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پولیس حکام کی کارکردگی پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ سماعت جسٹس شہرام سرور چودھری نے کی۔
دورانِ سماعت عدالت نے ایس ایس پی سی سی ڈی سے استفسار کیا کہ درخواست گزار کی جانب سے ایک پولیس اہلکار پر رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا، اس معاملے میں اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے پیش رفت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس شہرام سرور چودھری نے ایس ایس پی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت کو گمراہ کرنے یا حقائق چھپانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عدالتی حکم میں ایک سخت نوٹ لکھ دیا جائے تو اس کے اثرات افسر کے پورے کیریئر پر پڑ سکتے ہیں۔
عدالت نے مزید ریمارکس میں کہا کہ بعض افسران اختیارات ملنے کے بعد خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ عدالت نے ایس ایس پی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ یہ درخواست ایک خاتون کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں انہوں نے اپنے لاپتا شوہر کی بازیابی کے لیے عدالت سے مدد طلب کر رکھی ہے۔ کیس کی مزید سماعت بعد میں ہوگی۔



















































