پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

علیمہ خان وراثت سنبھالنا چاہتی ہیں لیکن ہاتھ کچھ نہیں آئیگا’ شیر افضل مروت

datetime 1  جون‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارٹی کی موجودہ حکمت عملی،

تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اندرونی اختلافات، غیر موثر تنظیمی فیصلوں اور کمزور سیاسی حکمتِ عملی کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔ایک انٹر ویو میں شیر افضل مروت نے دعوی کیا کہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا عمل محدود ہو گیا ہے جس کے باعث سیاسی جدوجہد اور احتجاجی سیاست متاثر ہوئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض غیر منتخب افراد کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے جماعتی معاملات پر منفی اثر ڈالا۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی اس حد تک کمزور ہو چکی ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران موثر سیاسی مہم چلانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی قیادت کو خیبرپختونخوا ہ سمیت دیگر علاقوں سے کارکنوں کو متحرک کر کے ایک بھرپور انتخابی مہم چلانی چاہیے تھی۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات اور بعض رہنمائوں کو درپیش رکاوٹوں کو بھی پارٹی کی کمزور تنظیمی صورتحال کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت کو زمینی سطح پر زیادہ مثر سیاسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا ہ کے براہ راست زمینی رابطے ہونے کے باوجود قیادت کے نہ پہنچنے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔انہوںنے کہا کہ تین مرتبہ عمران خان کی رہائی کا موقع ملا لیکن اسے ضائع کیا گیا ، عمران خان کی بہن علیمہ خان وراثت سنبھالنے کے چکر میں ہیں لیکن پارٹی رہے گی بھی تو ان کے ہاتھ میں کیا آئے گا۔شیر افضل مروت نے یہ بھی دعوی کیا کہ انہوں نے مختلف مواقع پر پارٹی کو منظم احتجاجی ڈھانچہ دینے کی کوشش کی تاہم ان کی تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کو متحد، متحرک اور منظم کرنا مقصود ہو تو تنظیمی سطح پر فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔سابق پی ٹی آئی رہنما نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعت کی موجودہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی روایت کو فروغ دیں تاکہ پارٹی کو دوبارہ موثر سیاسی قوت بنایا جا سکے۔شیر افضل مروت نے کارکنوں کے نام اپنی اپیل میں کہا کہ اگر وہ واقعی جماعت کو متحد، متحرک، منظم اور قید رہنمائوں کی رہائی کے لیے موثر عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف تین ماہ کے لیے جماعت کی تنظیمی کمان دی جائے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…