اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اداکارہ مومنہ اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف مبینہ ہراسگی کیس میں اہم شواہد تحقیقاتی حکام کے حوالے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں زیرِ تفتیش اس معاملے میں نئی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مومنہ اقبال اپنے وکیل کے ہمراہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر پہنچیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
ذرائع کے مطابق اداکارہ نے دورانِ تفتیش مبینہ دھمکی آمیز پیغامات، آن لائن ہراسگی سے متعلق ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر اہم شواہد تحقیقاتی ٹیم کے سپرد کیے۔ حکام نے شواہد کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ کیس کے مختلف پہلوؤں پر مومنہ اقبال سے تفصیلی پوچھ گچھ بھی کی، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کی حساس نوعیت اور شوبز انڈسٹری سے تعلق کے باعث میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد این سی سی آئی اے دفتر کے باہر موجود رہی۔ تاہم اداکارہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کیے بغیر عقبی راستے سے روانہ ہو گئیں۔
دوسری جانب تحقیقاتی ادارے کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو بھی آج دوپہر ایک بجے طلب کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنا مؤقف پیش کر سکیں، لیکن مقررہ وقت تک وہ پیش نہ ہوئے۔
ایجنسی حکام کے مطابق اگر آئندہ طلبی پر بھی نامزد رکنِ اسمبلی تفتیش میں شامل نہ ہوئے تو قانون کے مطابق یکطرفہ کارروائی سمیت گرفتاری کے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔



















































