اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق جاری مذاکرات میں مزید دو دن کی توسیع کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد کا پاکستان میں قیام متوقع شیڈول سے زیادہ ہوسکتا ہے تاکہ باقی رہ جانے والے نکات پر مشاورت مکمل کی جاسکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ مذاکرات آج مکمل ہونا تھے، تاہم بعض اہم معاملات پر حتمی اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر امور پر پیشرفت ہوچکی ہے جبکہ چند اہم مالیاتی نکات ابھی زیر غور ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی میں تقریباً 18 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے، جس کے بعد لیوی 100 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ عالمی مالیاتی ادارہ صوبوں کے لیے اضافی 430 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ہدف مقرر کرنا چاہتا ہے جبکہ وفاق کے لیے صوبائی سرپلس تقریباً 2 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے آئندہ مالی سال میں 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف تجویز کیا گیا ہے، جبکہ دسمبر 2026 تک ششماہی ٹیکس ہدف 7 ہزار 22 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ مزید برآں ٹیکس آڈٹ کے ذریعے 95 ارب روپے اضافی آمدن حاصل کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔
چینی، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد کے شعبوں سے مزید 50 ارب روپے وصول کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ دوسری جانب دفاعی اخراجات میں اضافے کا امکان ہے اور بجٹ 2 ہزار 564 ارب روپے سے بڑھا کر 2 ہزار 665 ارب روپے تک کیے جانے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے تقریباً 986 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ صوبائی ترقیاتی بجٹ 2.1 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2.5 ٹریلین روپے تک جاسکتا ہے۔ اسی طرح سود کی ادائیگیوں کا حجم آئندہ مالی سال میں 7.8 ٹریلین روپے تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم 14 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 18 ہزار روپے کرنے پر ابتدائی اتفاق بھی سامنے آیا ہے، جبکہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سال میں دو مرتبہ اضافے کی شرط برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔



















































