مانانوالہ(این این آئی)طویل عرصہ تک محکمہ صحت کے بعض حکام کی ملی بھگت سے جعلی ادویات تیار کرنے والی فیکٹری چلنے کا انکشاف ہواـ
ذرائع کے مطابق اس فیکٹری سے محکمہ صحت کے بعد افسروں کو روزانہ کی بنیاد پر رشوت دی جاتی تھی صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر کی سربراہی میں محکمہ صحت کی ٹیم نے شیخوپورہ کے قریب اس فیکٹری میں چھاپہ مار کر ادویات کا ذخیرہ قبضہ میں لے لیا فیکٹری میں کاروائی کے دوران بھاری مقدار خام مال بھی برامد کر لیا اور ایسے خطرناک کیمیکل برامد ہوئے جن کی مدد سے یہ ادویات برامد کر کے میڈیکل سٹوروں اور سٹاکسٹوں کو فراہم کی جاتی تھیں اور اس کاروائی کے دوران تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا کاروائی میں ادویات بنانے والی میشنری بھی قبضہ میں لے لی گئی برآمد شدہ ادویات میں انٹی بائیوٹک ٹیبلٹس انجکشن وٹامن اور شوگر کے مریضوں سمیت زندگی بچانے والی ادویات کے ناموں پر تیار کی جانے والی جعلی ادویات شامل ہیں اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ عوام کی جانوں سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ایسے گھنائونے دھندے میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ان کا کہنا تھا صوبہ پنجاب میں وزیر اعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر محکمہ صحت میں زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی ہوئی ہے اور ضلع شیخوپورہ کے عطائی ڈاکٹروں اور جعلی ہسپتالوں کے مالکان کے خلاف گرینڈ اپریشن کے لیے بھی پلان مرتب کر لیا گیا ہے
اور عطائیوں کے علاوہ جعلی ہسپتالوں کے مالکان کی فہرست بھی بعض اداروں نے فراہم کی ہے اسکیعلاوہ محکمہ صحت ضلع شیخو پورکے حکام نے بتایا ہے کہ قائم مقام ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر پی ایس ڈاکٹر ساجد جٹ کو ان کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے ان کو میڈیکل افیسر گورنمنٹ رورل ڈسپنسری سٹاف ڈی ایچ او افس شیخوپورہ تعینات کر دیا گیا ہے ان کی جگہ گریڈ 19 کے سینیئر افیسر ڈاکٹر محمد جمیل کو ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر پی ایس کے عہدہ پر تعینات کر دیا گیا ہے ـ



















































