اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان نے کہا ہے کہ خطے میںتیزی سے بدلتے ہوئے سیکیورٹی منظر نامے میں پاکستان اور ایران کا دہشت گردی کیخلاف مل کر کام کرنا ضروری ہے، ایران کے عالمی طاقتوں سے معاہدے کے نفاذ سے دونوں ممالک کیلئے معاشی اور تجارتی مواقع کی نئی راہیں کھلیں گی،دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینگے۔ بدھ کو ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ایڈمرل علی شام خانی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہم ایران کے سیکرٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل ایڈمرل علی شام خانی اور انکے وفد کا پاکستان آمد پر خیر مقدم کرتے ہیں ، علی شام خانی سیکرٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے طورپر پاکستان کا پہلا دورہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات ہیں جو مشترکہ تاریخ ، ثقافت اور مذہب کے رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں ۔ ایڈمرل شام خانی کا دورہ دونوں برادری ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر ایک دوسرے کے ملک کے دوروں کا تسلسل ہے اور یہ دورہ ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کے دورے کے بعد ہو رہاہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔ سرتاج عزیز نے کہاکہ میری ایڈمرل شام خانی کے ساتھ انتہائی دوستانہ اور تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور ہم نے دوطرفہ اور علاقائی سیکیورٹی سے متعلق تمام امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ میں ایرانی دوستوں کو پی فائیو پلس ون کے ساتھ مشترکہ جامع منصوبہ (جے سی پی اے ) طے پانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ ہمیں امید ہے کہ اس منصوبے کے نفاذ سے دونوں ممالک کیلئے معاشی اور تجارتی مواقع کی نئی راہیں کھلیں گی اور اس سے خطے اور خطے سے آگے امن سیکیورٹی اور خوشحالی کے فروغ میں مدد ملے گی انہوں نے کہاکہ فریقین نے محسوس کیا ہے خطے میں سیکیورٹی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے اور دونوں ممالک کیلئے موجودہ ابھرتے ہوئے دہشتگردانہ خطرات سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کی تمام شکلوں اور صورتوں کی مذمت کرتا ہے یہ ایک مشترکہ دشمن اور خطرہ ہے جس سے مشترکہ اور مربوط رد عمل کے ذریعے نمٹا جانا چاہئے ۔ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ اس لعنت سے نمٹنے کیلئے تعاون کوفروغ دیا جائیگا جبکہ سمگلنگ اور منشیات سمگلنگ جیسے متعلقہ مسائل پر قابو پانے کیلئے بھی تعاون بڑھایا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون کے فروغ کیلئے پہلے سے متعدد میکنزم موجود ہے جن میں مشترکہ اقتصادی کمیشن ، مشترکہ سرحدی کمیشن اور مشترکہ کمیشن برائے روڈ ٹرانسپورٹ شامل ہیں ۔ ہم نے ان پلیٹ فارمز کو موثر طور پر استعمال میں لانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے پر امن ہمسائیگی کے وژن پر کاربند رہتے ہوئے پاکستان اور ایران کے ساتھ مل کر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کیلئے مشترکہ اقدامات کئے جائیںگے انہوں نے کہا کہ ہم نے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دونوں ممالک کے عوام کے مفاد کیلئے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































