منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کر دی

datetime 6  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کیلئے نیا قانونی فریم ورک قائم کر دیا ۔

نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط پر پارلیمنٹ نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ2026 منظور کر لیا ہے جس کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی باضابطہ طور پر قائم کر دی گئی ہے۔یہ اتھارٹی ملک میں ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کو لائسنس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی بھی کرے گی،اس قانون کا مقصد سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنانا اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔رپورٹ کے مطابق نئے فریم ورک سے ورچوئل اثاثہ مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور نئی ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی بھی ممکن ہو سکے گی۔ اتھارٹی کو ابتدائی طور پر جولائی 2025میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قائم کیا گیا تھا جسے اب پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانونی حیثیت مل گئی ہے۔قانون کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کو بھی یقینی بنایا جائے گا جبکہ پاکستان کے ضابطہ کار کو عالمی معیار کے مطابق تشکیل دیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…