منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کیا پیر سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند ہوجائیں گے؟ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے خبردار کر دیا

datetime 6  مارچ‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)کی جانب سے اچانک کوٹہ سسٹم نافذ کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کم کر دی ہے

جس سے ملک میں تیل کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے پیٹرولیم ڈیلرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو متعدد پٹرول پمپس بند ہونے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین طارق حسن کے مطابق ملک میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی کسی قسم کی کوئی قلت نہیں ہے اور حکومت کے مطابق 28 روز کے ذخائر موجود ہیں مگر اس کے باوجود کمپنیوں نے کوٹہ سسٹم نافذ کر دیا ہے۔طارق حسن کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اچانک پٹرول پمپس کا کوٹہ کم کر دیا ہے اور مطلوبہ مقدار کے مقابلے میں صرف تقریبا 50 فیصد تک پٹرول اور ڈیزل فراہم کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپس معمول کے مطابق جتنی مقدار میں پہلے پٹرولیم مصنوعات خریدتے تھے، اسی مقدار کی ادائیگیاں بھی جمع کرا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مطلوبہ مقدار میں سپلائی نہیں دی جا رہی۔ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین کا کہنا ہے کہ سپلائی میں اچانک کمی نے پٹرول پمپ مالکان میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کئی پٹرول پمپس پر اسٹاک ختم ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث انہیں عارضی طور پر پمپس بند کرنا پڑ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر سپلائی بحال نہ کی گئی تو پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنے اور عوام میں بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جو مصنوعی قلت کو جنم دے سکتا ہے۔طارق حسن نے کہا کہ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب حکومت مسلسل یہ یقین دہانی کرا رہی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ حکومت کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت پٹرول اور ڈیزل کا تقریبا 28 دن کا ذخیرہ موجود ہے جو ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔اس کے باوجود، ڈیلرز کا کہنا ہے کہ، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پٹرول پمپس کو مطلوبہ مقدار میں سپلائی فراہم نہیں کر رہیں۔ڈیلرز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ واضح اعلان کیا گیا ہے کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی نہیں، تاہم اس کے باوجود مطلوبہ سپلائی نہیں دی جارہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں عوام کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی خریداری میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا پندرہ روزہ کے بجائے ہفتہ وار جائزہ لینے کا فیصلہ بھی ہے، جس کے باعث لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ مستقبل میں قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔پیٹرولیم ڈیلرز نے خبردار کیا کہ اگر سپلائی میں کمی اور عوامی طلب میں اضافہ جاری رہا تو اس سے مارکیٹ میں خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پابند بنائے کہ وہ پٹرول پمپس کو مطلوبہ مقدار میں پٹرولیم مصنوعات فراہم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…