اسلام آباد (نیوزڈیسک) روس اور چین نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، جس میں ایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی گئی اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی خودمختار ریاست کے خلاف کھلی جارحیت کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مذاکرات کا عمل جاری ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے رہنما کو نشانہ بنانا عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جبکہ حکومت کی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنا بھی بین الاقوامی ضوابط کے منافی ہے۔ چین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکی جائیں اور تمام فریق بات چیت کی میز پر واپس آئیں۔دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اتوار کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس واقعے کو “ظالمانہ قتل” قرار دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں پیوٹن نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانا انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کے بقول روس میں انہیں ایک باوقار اور نمایاں شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔



















































