امانت خان شیرازی
بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں اس شہر کو آگرہ کے بعد دوسرا دارالحکومت سمجھا جاتا تھا‘
اکبر اعظم نے دکن کی یلغاروں سے بچنے کے لیے برہان پور میں قلعہ اور چھوٹا سا محل بنوا دیا تھا‘ جہانگیر نے محل اور قلعہ دونوں کی حدود وسیع کر دیں‘ شاہ جہان نے باغ اور فوارے لگا کر اسے شالیمار بنا دیا‘ 1630ء میں دکن میں بغاوت ہوئی جس کی سرکوبی کے لیے بادشاہ خود برہان پور بیٹھنے پر مجبور ہو گیا‘ ملکہ ممتاز محل حسب دستور بادشاہ کے ساتھ تھی‘ وہ 14 ویں مرتبہ حاملہ تھی‘ 1631ء جون کے مہینے میں گوہرا بیگم (ممتاز کی 14ویں اولاد) کی پیدائش ہوئی اور ملکہ زچگی کے دوران فوت ہو گئی‘ شاہ جہان کی دنیا اجڑ گئی‘ وہ بادشاہ تھا لیکن مجنوں کا دل لے کر پیدا ہوا تھا‘ وہ شدید ڈپریشن میں چلا گیا اور خود کو برہان پور کی اس بارہ دردی میں محصور کر لیا جس میں ملکہ کا انتقال ہوا تھا اور جہاں اسے بعدازاں دفن کر دیا گیا تھا‘ وہ رات بھر شراب پیتا تھا اور ممتاز محل کی قبر پر لیٹا رہتا تھا‘ بارہ دری میں صرف جہاں آراء بیگم داخل ہو سکتی تھی‘
وہ شاہ جہاں کی لاڈلی بیٹی تھی‘ بادشاہ نے اسے ممتاز محل کے بعد بادشاہ بیگم (فرسٹ لیڈی) کا خطاب دے دیا تھا‘ وہ اس زمانے کی انتہائی بااثر اور بااختیار خاتون تھی‘ دہلی کا چاندنی چوک اور آگرہ کی شاہی مسجد اسی نے بنوائی تھی‘ اورنگ زیب نے مدت بعد جب تخت پر قبضہ کیا اور بوڑھے باپ کو آگرہ کے قلعے میں بند کر دیا تو اس وقت بھی صرف جہاں آراء کو شاہ جہان کے قید خانے میں داخل ہونے کی اجازت تھی‘ وہ آخری وقت تک اپنے والد کی خدمت کرتی رہی‘ شاہ جہان نے اسی کے ہاتھوں میں آخری ہچکی لی تھی لیکن یہ سب بہت بعد کی باتیں ہیں‘ ہم ابھی 1631ء میں ہیں‘ بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا اور ممتاز محل کی قبر سے الگ ہونے کے لیے تیار نہیں تھا اور پوری سلطنت میں صرف ایک شخص تھا جو اسے قبر سے الگ کر سکتا تھا اور اس شخص کا نام عبدالحق تھا‘ وہ ایران کے شہر شیراز سے تعلق رکھتا تھا اور شاہ جہان کے وزیر (وزیراعظم) افضل خان کا چھوٹا بھائی تھا‘ اللہ تعالیٰ نے دونوں بھائیوں کو جی بھر کر علم اورفضل سے نواز رکھا تھا‘ افضل خان کا
اصل نام ملا شاکراللہ تھا‘ اللہ نے اسے علم کے ساتھ عقل بھی دے رکھی تھی‘ وہ مختلف بادشاہوں اور رئیس لوگوں کے درباروں سے ہوتا ہوا آگرہ پہنچا‘ اکبراعظم کے رتن خاں خاناں کا دایاں بازو بنا‘جہانگیر کے دربار تک پہنچا‘ لاہور کا گورنر بنا اور آخر میں شاہ جہاں کا مصاحب اور پھر وزیر بن گیا‘ شاہ جہاں نے اسے افضل خان کے خطاب سے نوازا ‘ عبدالحق اس کا چھوٹا بھائی تھا۔
عبدالحق جہانگیر کے زمانے میں بڑے بھائی کے پاس پہنچ گیا‘ وہ کمال کا کیلی گرافر اور سخن فہم تھا‘ اس زمانے میں اکبراعظم کا مقبرہ بن رہا تھا‘ افضل خان نے اسے مقبرے کی دیواروں پر کیلی گرافی کا کام دے دیا‘ عبدالحق نے کمال کر دیا‘ اس نے کیلی گرافی سے دیواروں کو زبان دے دی‘ شاہ جہان اس وقت محض شہزادہ تھا‘ اس نے عبدالحق کا کام دیکھا تو اس کا فین ہو گیا‘ شاہ جہان وسیع المطالعہ شخص تھا‘ اس کی ذاتی لائبریری میں ہزاروں کتابیں تھیں‘ اس نے عبدالحق کو اپنی لائبریری ڈیزائن کرنے کا کام سونپ دیا‘ یہ کام ابھی جاری تھا کہ جہانگیر کا انتقال ہو گیا اور شاہ جہان بادشاہ بن گیا جس کے بعد شہزادے کی لائبریری شاہی لائبریری بن گئی اور اس کے سائز اور بجٹ میں اضافہ ہو گیا‘ عبدالحق کے اس زمانے میں دو کام تھے‘ بادشاہ کے کتابی خزانے سے فائدہ اٹھانا اور شاہی لائبریری کی دیواروں پر کیلی گرافی کرنا‘ مطالعے نے اس کا علمی افق وسیع کر دیا اور بادشاہ اس کی کمپنی انجوائے کرنے لگا‘ بادشاہ علم دوست تھا چناں چہ وہ اچھے فقروں سے بہت متاثر ہوتا تھا اور عبدالحق اس کا ماہر تھا‘ اس کی باتوں میں کتابوں کی وزڈم اور قرآن کی آیات کا نور تھا‘ وہ اپنے ایک ایک فقرے کا حوالہ دیتا تھا اور بادشاہ دیر تک سردھنتا رہتا تھا لیکن ممتاز محل کے انتقال کے بعد یہ ملاقاتیں دم توڑ گئیں اور بادشاہ عبدالحق کو بھول گیا‘ بادشاہ تارک الدنیا ہو چکا تھا جس کی وجہ سے سلطنت کی چولیں ہلنے لگی تھیں‘ مغلوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے‘ اسی مشکل وقت میں افضل خان نے بادشاہ بیگم شہزادی جہاں آراء کو مشورہ دیا آپ کسی طریقے سے عبدالحق کو بادشاہ تک پہنچا دیں‘
یہ انہیں باہر اور پھر کاروبار سلطنت کی طرف واپس لے آئے گا‘ جہاں آراء کو یہ تجویز اچھی لگی‘ ان دنوں ایران کا سفیر محمد علی بیگ بڑے دنو ںسے بادشاہ سے ملاقات کے لیے آگرہ میں بیٹھا تھا‘ افضل خان نے عبدالحق کو سفیر کا مشیر مہمان داری بنا کر برہان پور بھجوا دیا‘ دوسری طرف شہزادی جہاں آراء نے بادشاہ کو سفیر سے ملاقات کے لیے راضی کرلیا یوں عبدالحق سفیر کے ساتھ بادشاہ کے سامنے پیش ہو گیا‘ بادشاہ نے اسے دیکھا‘ سفیر کو ملاقات کے بعد رخصت کر دیا اور عبدالحق کو اپنے پاس روک لیا‘ بادشاہ نے عبدالحق سے پوچھا ’’کیا دنیا میں مرض محبت کا کوئی علاج ممکن ہے؟‘‘ عبدالحق نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا ’’جی حضور مرض محبت کا علاج یاد گار محبت ہے‘‘ بادشاہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ عبدالحق نے عرض کیا ’’حضور آپ اگر شاعر ہوتے تو میں آپ کو مشورہ دیتا آپ محبت کا دیوان لکھ دیں‘ آپ اگر ادیب ہوتے تو میں آپ کو مشورہ دیتا آپ محبت کی عظیم داستان لکھ دیں اور آپ اگر مجسمہ ساز ہوتے تو میں آپ کو محبت کا عظیم مجسمہ بنانے کی صلاح دیتا لیکن آپ معمار ہیں‘ اللہ نے آپ کو مٹی کو باغ ارم اور پتھر کو مہتاب بنانے کا فن دیا ہے‘ میری حقیر تجویز ہے آپ محبت کی کوئی ایسی یادگار بنائیں جو رہتی دنیا تک ملکہ حضور اور آپ کی محبت کی گواہ بن جائے‘ محبت اس کے بعد کسی دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے‘‘ بادشاہ کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں اور اس نے عبدالحق کو حکم دیا تم برہان پور میں ملکہ کی قبر پر ایسا مقبرہ تعمیر کرو جو محبت کی عظمت کا گواہ بن جائے‘ عبدالحق نے سینے پر ہاتھ باندھے‘ کورنش بجا لایا اور پھر عرض کیا ’’حضور محبت کی یادگار اسی جگہ بننی چاہیے جہاں آپ نے ملکہ سے وعدہ فرمایا تھا‘‘بادشاہ کو یہ تجویز بھی اچھی لگی چناں چہ آگرہ میں جمنا کے کنارے ممتاز محل کا عظیم مقبرہ بنانے کا فیصلہ ہو گیا جس کا چیف کیلی گرافر عبدالحق تھا۔
تاج محل سفید پتھروں سے تعمیر ہو گا یہ فیصلہ بھی عبدالحق نے کیا تھا‘ اس کا کہنا تھا محبت امانت ہوتی ہے اور دنیا میں سفید سنگ مر مر سب سے بڑا ایمان دار پتھر ہے‘ یہ کسی رنگ‘ کسی نقش کے ساتھ بے ایمانی نہیں کرتا‘ بادشاہ کو یہ بات بھی اچھی لگی‘ عبدالحق نے اس کے بعد فیصلہ کیا تاج محل میں کوئی رنگ (پینٹ) استعمال نہیں ہوگا جہاں جس رنگ کی ضرورت ہو گی وہاں اس رنگ کا پتھرلگایا جائے‘ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کیوں کہ ہر رنگ کا پتھر ملنا محال تھا اور دوسرا اگر وہ مل بھی جاتا تو اسے جڑنا اور پھر وقت کی دست برد سے محفوظ رکھنا ناممکن تھا لیکن یہ فیصلہ عبدالحق نے کیا اور اس کی تصدیق شاہ جہان جیسے بادشاہ نے کی چناں چہ یہ ناممکن زیادہ دنوں تک ناممکن نہ رہا‘ تاج محل کے لیے دنیا جہاں سے 20 ہزار ہنر مند آگرہ لائے گئے‘استاد احمد لاہوری کو چیف انجینئر بنا دیا گیا‘ سفید دودھ جیسا سنگ مر مر ہزاروں میل دور سے منگوایا گیا اور جمنا کے کنارے دنیا کا ساتواں عجوبہ تخلیق کے عمل سے گزرنے لگا‘ عبدالحق کا کام پتھر کے اندر آیات اتارنا تھا‘ اس کے لیے اس نے ایک نیا فن تخلیق کیا‘ وہ پہلے سفید سنگ مرمر پر قلم سے آیت لکھتا تھا اور پھر اس آیت کو باریک اوازوں سے ڈیڑھ دو انچ گہرا کھرچتا تھا‘ پھر اسے رگڑ کر نرم بناتا تھا‘ وہ اس کے بعد سیاہ پتھر لیتا تھا‘ اس کے اوپر وہی آیت دوبارہ لکھی جاتی تھی اور پھر اس پتھر کو رگڑ رگڑ کر حرف بنائے جاتے تھے اور یہ سیاہ حرف بعدازاں سفید سنگ مرمر کے کھرچے ہوئے حرفوں کے اندر فکس کر دیے جاتے تھے‘ یہ نہ صرف ایک طویل اور صبر آزما کام تھا بلکہ اس کے اندر دو مزید ہنر بھی پوشیدہ تھے‘
ایک کسی پتھر میں دراڑ نہیں آنی چاہیے اور دوسرا سیاہ حرف کا سائز اتنا پرفیکٹ ہونا چاہیے کہ وہ سفید حرف کے اندر آسانی سے بیٹھ جائے اور اس کے بعد دنیا کی کوئی آفت اسے سفید حرف سے جدا نہ کر سکے‘ یہ واقعی کمال تھا‘ عبدالحق نے سب سے پہلے تاج محل کے گیٹ پر سفید پتھر میں سیاہ پتھر جڑ کر آیتیں لکھیں‘ بادشاہ آیا‘ اس نے دیکھا اور مبہوت ہو گیا‘ وہ سکتے کے عالم میں گیٹ دیکھتا رہا‘ عبدالحق نے اس میں ایک اور فن کاری بھی کی تھی‘ تاج محل کا گیٹ 93فٹ بلند تھا‘ حروف کا سائز نیچے سے اوپر کی طرف درجہ بدرجہ اس طرح بڑھایا گیا تھا کہ نیچے سے اوپر تک آیات کا سائز ایک جیسا محسوس ہوتا تھا‘ اس کا کہنا تھا دیکھنے والی آنکھ کو دور یا نزدیک اللہ کا کلام ایک جیسا دکھائی دینا چاہیے اور تاج محل میں یہ آج بھی ایک جیسا دکھائی دیتا ہے‘ تاج محل کی کیلی گرافی قلم کا کمال نظر آتی ہے جب کہ اصل میں یہ سفید سنگ مر مر میں سیاہ پتھر جڑے ہوئے ہیں اور ہر حرف ’’ون پیس‘‘ ہے‘ یہ ٹکڑے جوڑ کر نہیں بنایا گیا‘ بادشاہ نے دیکھا اور اسے اسی وقت امانت خان کا ٹائٹل دے دیا‘ امانت خان الشیرازی‘ امانت خان نے تاج محل پر چھ سال کام کیا‘ اس نے گیٹ کے بعد تاج محل کے مرکزی گنبد کے اندر بھی کیلی گرافی کی‘آپ اس کا کمال دیکھیں‘ حرف گنبد کے اندر ہیں لیکن آج تک ان میں سے کوئی ٹکڑا نکل کر نیچے نہیں گرا‘ دوسرا یہ نیچے سے سیدھے اور یکساں دکھائی دیتے ہیں‘ اس جیسا فن دنیا میں کسی دوسری جگہ موجود نہیں‘ امانت خان شیرازی کے بعد سنٹرل ایشیا کی بے شمار عمارتوں میں کوشش کی گئی لیکن کوئی فن کار کام یاب نہیں ہو سکا‘ تاج محل میں شاہ جہان کے علاوہ امانت خان شیرازی واحد شخص ہے جس کا نام درج ہے‘ آیات کے درمیان اس نے اپنے سگنیچر’’ الفقیر الحقیر امانت خان الشیرازی 1048 ہجری 12واں سال شاہ جہان‘‘ لکھ کر چھوڑے‘ یہ عبارت بھی سفید سنگ مرمر میں سیاہ پتھر سے جڑی ہے اور آج تک قائم ہے‘ یہ فقرہ دو جگہوں پر ہے‘ تاج محل کے گیٹ اور گنبد کی اندرونی سطح پر‘ مجھے 2014ء میں یہ عجوبہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا۔
امانت خان شیرازی کا کام ٹھیک چل رہا تھا لیکن پھر اچانک 1639ء میں اس کے بھائی افضل خان شیرازی کا لاہور میں انتقال ہو گیا‘ افضل خان نے اپنی زندگی میں آگرہ میں اپنا مقبرہ بنوا رکھا تھا‘ اس کی میت لاہور سے آگرہ لا کر دفن کر دی گئی‘ یہ امانت خان کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا‘ وہ ڈپریشن میں چلا گیا اور پھر مرنے تک اس سے باہر نہ نکل سکا‘ اس نے اپنے تمام منصب بادشاہ کو واپس کیے‘ اس کے ہاتھ پر بوسا دیا اور آگرہ سے نکل گیا‘ امرتسر اس کی اگلی منزل تھا‘ اس نے پوری زندگی کی جمع پونجی سے امرتسر سے 29 کلومیٹر کے فاصلے پر مسافروں کے لیے سرائے بنوادی‘ اس میں اس کا اپنا رہائشی علاقہ اور مسجد بھی تھی‘ امانت خان کی سرائے اس سے منسوب تھی‘ لوگ لاہور سے آگرہ جاتے ہوئے اس میں ٹھہرتے تھے‘ امانت خان شیرازی 1645ء میں اسی سرائے میں فوت ہوا اور اسے وہیں دفن کر دیا گیا‘ وقت گزرتا چلا گیا اور اس کی سرائے کے گرد لوگ آباد ہوتے چلے گئے یوں آہستہ آہستہ امانت خان کے نام سے وہاں پورا ٹائون آباد ہو گیا‘ میں 2014ء میں سرائے امانت خان گیا‘
وہ چھوٹا سا غریب سا قصبہ تھا‘ لوگ مفلوک الحال اور پریشان حال تھے‘ میں سرائے میں پہنچا تو اس کی دیواریں ڈھے چکی تھیں‘ کمرے ناپید تھے تاہم گیٹ اور ڈیوڑھی سلامت تھی اور وہ ابھی تک عمررفتہ کو آواز دے رہی تھی‘ سرائے کے مختلف حصوں پر مختلف خاندانوں کا قبضہ تھا‘ وہ لوگ جی بھر کر عمارت کو برباد کر رہے تھے‘ میں نے بڑی کوشش سے امانت خان کی قبر ڈھونڈی‘ لوگ اسے بول وبراز کے لیے استعمال کر رہے تھے‘ اندر بدبو اور اندھیرا تھا‘ میں بڑی مشکل سے گند سے بچتا بچاتا قبر کے تعویذ تک پہنچا‘ رومال سے گرد صاف کی تو نیچے سے الفقیر امانت خان شیرازی نکل آیا‘ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ کیا بلندی تھی کہ آگرہ میں تاج محل کے گیٹ اور گنبد کے اندر اس کا نام آیتوں کے درمیان لکھا تھا اور کیا پستی تھی کہ اس کی قبر پر اندھیرا اور بو تھی اور دائیں بائیں دوڑتے بھاگتے لوگوں کو یہ علم تک نہیں تھا وہ کس شخص کی ہمسائیگی میں سانس لے رہے ہیں‘ وہ شخص جس نے تاج محل کی دیواروں کو زبان اور شاہ جہان کو تاج محل بنانے کی تحریک دی‘ میرے لیے ان دونوں میں اصل امانت خان شیرازی کا فیصلہ کرنا مشکل تھا وہ امانت خان جس کا نام تاج محل پر لکھا تھا وہ اصلی تھا یا پھر وہ جس کی قبر سرائے امانت خان کی گری ہوئی دیواروں کے درمیان اپنا پتا پوچھ رہی تھی‘ میرے لیے یہ فیصلہ واقعی بہت مشکل تھا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کا خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ، سعودی عرب کا ردعمل آگیا
-
ایران کا ابوظبی پر حملہ،یو اے ای نے بھی بڑا اعلان کر دیا
-
سپریم کورٹ کا این اے 251 کا فیصلہ، خوشحال خان خٹک کامیاب قرار
-
دہشت گردی کا خطرہ، تھریٹ الرٹ جاری
-
پاک فضائیہ کی بمباری , افغان سپریم لیڈر ہیبت اللہ کی ہلاکت کی غیر مصدقہ اطلاعات
-
ماہانہ 70 ہزار روپے کمانے کا موقع ! پاکستانی نوجوانوں کے لئے بڑی خوشخبری
-
1 کروڑ روپے تک کا قرضہ : اپنا گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلیے بڑی خوشخبری
-
ٹی20 ورلڈ کپ: سیمی فائنل تک رسائی کیلیے پاکستانی ٹیم کو کیا کرنا ہوگا؟
-
پنجاب اسمبلی کے ملازم کی ایم پی اے کے کمرے سے لاش برآمد
-
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل بھی آگیا
-
پاکستانی سفارتخانے نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری دیں
-
موٹر سائیکل مالکان کے لئے اہم خبر
-
سرکاری ملازمین کی 89 چھٹیاں ! نئے رولز جاری کر دیے گئے
-
ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کا پہلا بیان آ گیا





















































